شہزاد احمد

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد

11 January 2026

14سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

بے شمار آنکھیں

آسماں کے چہرے پر بے شمار آنکھیں ہیں بے شمار آنکھوں میں بے حساب منظر ہیں منظروں کے آئینے اپنے اپنے چہروں کو خود ہی دیکھ سکتے ہیں خود ہی جان سکتے ہیں اپنی بے نوائی کو وسعتوں کی چادر پر سلوٹیں بہت سی ہیں اس خموش دنیا میں آہٹیں بہت سی ہیں آتی جاتی لہروں کا ازدحام رہتا ہے وقت ایک خنجر ہے بے نیام رہتا ہے یہ عجیب دنیا ہے جس میں کچھ نہیں ملتا پھر بھی ایک لمحے میں بے شمار تاریخیں یوں بدلتی رہتی ہیں جیسے خشک پتوں کا ڈھیر اڑتا پھرتا ہے بے کنار سمتوں میں بے شمار سمتوں میں بے شمار آنکھیں ہیں کچھ نہیں ہے تکنے کو اور ہزار آنکھیں ہیں راستوں کے دھاگے سے ہر طرف لٹکتے ہیں خاک کے جزیرے سے ہر طرف بھٹکتے ہیں پھر بھی آسمانوں پر رات کے اندھیرے میں صبح کے سویرے ہیں یہ عجب معمہ ہے جس طرف بھی ہم دیکھیں ٹوٹتے ہوئے لمحے بھاگتے ہوئے رستے جاگتے ہوئے منظر آئنوں کے اندر بھی آئنوں کے باہر بھی ایک شور برپا ہے جس کو ہم نہیں سنتے اور وہ ہم سے کہتا ہے تم بھی میرے جیسے ہو میں بھی مٹنے والا ہوں تم بھی مٹنے والے ہو آسماں کے چہرے پر بے شمار آنکھیں ہیں بے شمار آنکھوں میں بے حساب منظر ہیں منظروں کے آئینے رنگ رنگ آئینے کے جواب منظر ہیں منظروں کے اندر بھی صد ہزار منظر ہیں وہ بھی مٹنے والے ہیں ہم بھی مٹنے والے ہیں

— شہزاد احمد

بدلتے ناموں کی داستانیں

دمکتے سورج کی آنکھ کھلنے کا وقت آیا زمیں کے لاوے نے کروٹیں لیں فلک نے دیکھا تو کانپ اٹھا یہ سرپھرے لوگ کون سے ہیں ہوا نے پوچھا سنے ہوئے عزم کے نشان ان کے زرد چہروں پہ کھل اٹھے ہیں یہ لوگ دن رات جاگتے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ زرد مٹی پہ سرخ پھولوں کی بارشیں ہوں زمیں کی وسعت پہ قریہ قریہ محافظوں کی الگ زمیں ہو زمیں کے بے تاج بادشاہوں نے ہم کو لوٹا ہے قریہ قریہ ہماری جھولی میں بھیک ڈالی ہے بھیک میں واہمے دیے ہیں یہ واہمے ہی ہمارے گھر ہیں ہم ان گھروں میں کئی زمانوں سے رہ رہے ہیں گھروں کی دیواریں رفتہ رفتہ سمٹ رہی ہیں چھتیں دھماکوں سے پھٹ رہی ہیں ہم ان کے ملبے میں دب رہے ہیں قرن قرن جاں بہ لب رہے ہیں پھر اب تو یہ عہد کر لیا ہے یہ گھر رہیں گے یا ہم رہیں گے کبھی نہ دونوں بہم رہیں گے زمیں پہ سیلاب آنے والا ہے اس میں پوشیدہ وہ اجالا ہے جس سے صدیوں کی تیرگی پر نشے افق کی نظر پڑے گی اسی اجالے کی وسعتوں میں وہ روز ہے جس کی ایک جنبش ہر ایک دیوار توڑ دے گی لہو ستم کا نچھوڑ دے گی وہ گھر بھی مٹی پہ آ رہیں گے جو گھر نہیں ہیں ہمارے زنداں ہیں جن کی تختی بدلتی رہتی ہے نام ان کے ہزار رکھے گئے ہیں پھر بھی ہوس کے زنداں تو ایک جیسے ہیں ایک زنجیر ہی کی کڑیاں الگ الگ بھی ہیں ایک بھی ہیں

— شہزاد احمد

زہریلی تخلیق

ایک پل میں ختم ہو سکتی ہے وسعت دہر کی چوٹیوں سے چوٹیوں تک راستہ آگے خلا اور خلا کی تیرگی میں دور سے آئی ہوئی کرنوں کے رنگوں کی نمود آسماں کے پاؤں پر مہتاب و انجم کے سجود اور زمیں کی رونقوں کا وہم فکر رفت و بود بن دیے کس نے یہ تار و پود کس کے ہاتھ میں آیا نظام کائنات کس کے ذرے بن گئے دنیا ستارے آفتاب کس نے آوارہ خیالی کو پلائی فکر شیریں کی شراب کس نے یہ سب کچھ بنایا اور خود تاریک پردوں میں کہیں بیٹھا رہا کیا یہ سب پھیلاؤ میرے واسطے ہیں یا میں خود اس کی پرانی روح میں بیٹھا ہوا گن رہا ہوں اس کے اشکوں کی قطار پونچھتا ہوں اس کے آنسو مانگتا ہوں اس سے بھیک (چاہتا ہوں روح کی خاطر سکوں) وہ تو خود اس خیر و شر کے جال میں الجھا ہوا درد سے بیتاب تخلیق اذیت سے نڈھال چیخ کر کہتا ہے ''مجھ کو مار ڈال''

— شہزاد احمد