آسماں کے چہرے پر بے شمار آنکھیں ہیں
بے شمار آنکھوں میں بے حساب منظر ہیں
منظروں کے آئینے اپنے اپنے چہروں کو خود ہی دیکھ سکتے ہیں
خود ہی جان سکتے ہیں اپنی بے نوائی کو
وسعتوں کی چادر پر سلوٹیں بہت سی ہیں
اس خموش دنیا میں آہٹیں بہت سی ہیں
آتی جاتی لہروں کا ازدحام رہتا ہے
وقت ایک خنجر ہے
بے نیام رہتا ہے
یہ عجیب دنیا ہے جس میں کچھ نہیں ملتا
پھر بھی ایک لمحے میں بے شمار تاریخیں
یوں بدلتی رہتی ہیں
جیسے خشک پتوں کا ڈھیر اڑتا پھرتا ہے
بے کنار سمتوں میں
بے شمار سمتوں میں بے شمار آنکھیں ہیں
کچھ نہیں ہے تکنے کو اور ہزار آنکھیں ہیں
راستوں کے دھاگے سے ہر طرف لٹکتے ہیں
خاک کے جزیرے سے
ہر طرف بھٹکتے ہیں
پھر بھی آسمانوں پر رات کے اندھیرے میں
صبح کے سویرے ہیں
یہ عجب معمہ ہے
جس طرف بھی ہم دیکھیں
ٹوٹتے ہوئے لمحے بھاگتے ہوئے رستے جاگتے ہوئے منظر
آئنوں کے اندر بھی آئنوں کے باہر بھی
ایک شور برپا ہے
جس کو ہم نہیں سنتے
اور وہ ہم سے کہتا ہے
تم بھی میرے جیسے ہو
میں بھی مٹنے والا ہوں تم بھی مٹنے والے ہو
آسماں کے چہرے پر بے شمار آنکھیں ہیں
بے شمار آنکھوں میں بے حساب منظر ہیں
منظروں کے آئینے
رنگ رنگ آئینے کے جواب منظر ہیں
منظروں کے اندر بھی صد ہزار منظر ہیں
وہ بھی مٹنے والے ہیں
ہم بھی مٹنے والے ہیں
شہزاد احمد
دمکتے سورج کی آنکھ کھلنے کا وقت آیا
زمیں کے لاوے نے کروٹیں لیں
فلک نے دیکھا تو کانپ اٹھا
یہ سرپھرے لوگ کون سے ہیں ہوا نے پوچھا
سنے ہوئے عزم کے نشان ان کے زرد چہروں پہ کھل اٹھے ہیں
یہ لوگ دن رات جاگتے ہیں
یہ چاہتے ہیں کہ زرد مٹی پہ سرخ پھولوں کی بارشیں ہوں
زمیں کی وسعت پہ قریہ قریہ محافظوں کی الگ زمیں ہو
زمیں کے بے تاج بادشاہوں نے ہم کو لوٹا ہے قریہ قریہ
ہماری جھولی میں بھیک ڈالی ہے
بھیک میں واہمے دیے ہیں
یہ واہمے ہی ہمارے گھر ہیں
ہم ان گھروں میں کئی زمانوں سے رہ رہے ہیں
گھروں کی دیواریں رفتہ رفتہ سمٹ رہی ہیں
چھتیں دھماکوں سے پھٹ رہی ہیں
ہم ان کے ملبے میں دب رہے ہیں
قرن قرن جاں بہ لب رہے ہیں
پھر اب تو یہ عہد کر لیا ہے
یہ گھر رہیں گے یا ہم رہیں گے
کبھی نہ دونوں بہم رہیں گے
زمیں پہ سیلاب آنے والا ہے
اس میں پوشیدہ وہ اجالا ہے
جس سے صدیوں کی تیرگی پر نشے افق کی نظر پڑے گی
اسی اجالے کی وسعتوں میں وہ روز ہے جس کی ایک جنبش
ہر ایک دیوار توڑ دے گی
لہو ستم کا نچھوڑ دے گی
وہ گھر بھی مٹی پہ آ رہیں گے
جو گھر نہیں ہیں ہمارے زنداں ہیں
جن کی تختی بدلتی رہتی ہے
نام ان کے ہزار رکھے گئے ہیں
پھر بھی ہوس کے زنداں تو ایک جیسے ہیں
ایک زنجیر ہی کی کڑیاں
الگ الگ بھی ہیں ایک بھی ہیں
شہزاد احمد
ایک پل میں ختم ہو سکتی ہے وسعت دہر کی
چوٹیوں سے چوٹیوں تک راستہ
آگے خلا
اور خلا کی تیرگی میں دور سے آئی ہوئی کرنوں کے رنگوں کی نمود
آسماں کے پاؤں پر مہتاب و انجم کے سجود
اور زمیں کی رونقوں کا وہم فکر رفت و بود
بن دیے کس نے یہ تار و پود
کس کے ہاتھ میں آیا نظام کائنات
کس کے ذرے بن گئے دنیا ستارے آفتاب
کس نے آوارہ خیالی کو پلائی فکر شیریں کی شراب
کس نے یہ سب کچھ بنایا
اور خود تاریک پردوں میں کہیں بیٹھا رہا
کیا یہ سب پھیلاؤ میرے واسطے ہیں
یا میں خود اس کی پرانی روح میں بیٹھا ہوا
گن رہا ہوں اس کے اشکوں کی قطار
پونچھتا ہوں اس کے آنسو مانگتا ہوں اس سے بھیک
(چاہتا ہوں روح کی خاطر سکوں)
وہ تو خود اس خیر و شر کے جال میں الجھا ہوا
درد سے بیتاب تخلیق اذیت سے نڈھال
چیخ کر کہتا ہے ''مجھ کو مار ڈال''
شہزاد احمد