مظفر وارثی اردو ادب کے اُن خوش نصیب شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں اپنے عہد میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا اور جن کا کلام آج بھی عقیدت اور احترام کے ساتھ پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ ان کا اصل نام محمد مظفر الدین صدیقی تھا اور وہ دسمبر 1933 میں میرٹھ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ ہجرت کر کے لاہور آ گئے جو بعد ازاں ان کی ادبی شناخت اور تخلیقی سرگرمیوں کا مرکز بنا۔ اگرچہ انہوں نے عملی زندگی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان جیسے ادارے میں ایک ذمہ دار منصب (ڈپٹی ٹریژرر) سنبھالا، مگر ان کی اصل پہچان شاعری، خصوصاً نعت اور حمد کی صورت میں سامنے آئی، جس نے انہیں عام شاعر نہیں بلکہ ایک روحانی آواز بنا دیا۔
مظفر وارثی کی شاعری کا امتیاز سادگی، خلوص اور فکری گہرائی ہے۔ انہوں نے غزل، نظم اور فلمی گیت بھی لکھے، مگر وقت کے ساتھ انہوں نے اپنی تخلیقی توجہ نعتیہ اور حمدیہ شاعری پر مرکوز کر دی۔ ان کا کلام محض الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ ایک فکری و روحانی تجربہ محسوس ہوتا ہے، جس میں عقیدت بھی ہے اور سوال بھی، دعا بھی ہے اور عرفان بھی۔ “کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے” جیسی حمد نے انہیں گھر گھر پہچان دی، جبکہ ان کی خودنوشت “گئے دنوں کا سراغ” ان کی فکری اور ذاتی زندگی کے کئی کم معروف گوشوں کو آشکار کرتی ہے۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے انہیں 1988 میں تمغۂ حسنِ کارکردگی عطا کیا گیا جو ان کی ادبی خدمات کا سرکاری اعتراف تھا۔
28 جنوری 2011 کو مظفر وارثی اس دنیا سے رخصت ہوئے اور لاہور ہی میں سپردِ خاک ہوئے، مگر ان کا کلام آج بھی زندہ ہے۔ ایک کم جانی جانے والی حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے شعوری طور پر فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کی اور مذہبی و روحانی شاعری کو اپنی شناخت بنا لیا، جو ان کے باطنی رجحان اور فکری ارتقا کی علامت ہے۔ صوفیانہ مزاج، وارثی روایت سے نسبت اور عملی زندگی کی نظم و ضبط—یہ سب عناصر ان کی شاعری میں ایک خاص توازن پیدا کرتے ہیں۔ مظفر وارثی محض ایک شاعر نہیں، بلکہ اردو ادب میں وہ آواز ہیں جو عقیدت کو فکر اور فکر کو دعا میں بدل دیتی ہے۔