عناب لب کا اپنے مزا کچھ نہ پوچھئے
کس درد کے ہیں آپ دوا کچھ نہ پوچھئے
ناز و نیاز عاشق و معشوق کیا کہوں
عجز و غرور شاہ و گدا کچھ نہ پوچھئے
خوشبو سے ہو رہا ہے معطر دماغ جان
چلتی ہے کس طرف کی ہوا کچھ نہ پوچھئے
کیا کیا نگہ پھسلتی ہے رخسار یار پر
کیسا یہ آئنہ ہے صفا کچھ نہ پوچھئے
جامہ سے باہر اپنے جو ہوں میں عجب نہیں
کھولے ہیں کس کے بند قبا کچھ نہ پوچھئے
آئینہ لے کے کیجئے اتنا مشاہدہ
ہم سے سلوک شرم و حیا کچھ نہ پوچھئے
اللہ نے کیا ہے کسے بادشاہ حسن
سر پر ہے کس کے ظل ہما کچھ نہ پوچھئے
رنگیں کیے ہیں یار نے جیسے کہ دست و پا
کیا رنگ لا رہی ہے حنا کچھ نہ پوچھئے
ناگفتنی ہے عشق بتاں کا معاملہ
ہر حال میں ہے شکر خدا کچھ نہ پوچھئے
کیا شے ہے وہ کمر جو گزرتا ہے یہ خیال
آتی ہے غیب سے یہ صدا کچھ نہ پوچھئے
کوتاہ خال روئے منور ہے کس قدر
کتنی ہے زلف یار رسا کچھ نہ پوچھئے
آتشؔ گناہ عشق کی تعزیر کیا کہوں
مشفق جو کچھ ہے اس کی سزا کچھ نہ پوچھئے
حیدر علی آتش
حسن پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کا
ہشیار وہی ہے کہ جو دیوانہ ہے اس کا
گل آتے ہیں ہستی میں عدم سے ہمہ تن گوش
بلبل کا یہ نالہ نہیں افسانہ ہے اس کا
گریاں ہے اگر شمع تو سر دھنتا ہے شعلہ
معلوم ہوا سوختہ پروانہ ہے اس کا
وہ شوخ نہاں گنج کی مانند ہے اس میں
معمورۂ عالم جو ہے ویرانہ ہے اس کا
جو چشم کہ حیراں ہوئی آئینہ ہے اس کی
جو سینہ کہ صد چاک ہوا شانہ ہے اس کا
دل قصر شہنشہ ہے وہ شوخ اس میں شہنشاہ
عرصہ یہ دو عالم کا جلو خانہ ہے اس کا
وہ یاد ہے اس کی کہ بھلا دے دو جہاں کو
حالت کو کرے غیر وہ یارانہ ہے اس کا
یوسف نہیں جو ہاتھ لگے چند درم سے
قیمت جو دو عالم کی ہے بیعانہ ہے اس کا
آوارگی نکہت گل ہے یہ اشارہ
جامے سے وہ باہر ہے جو دیوانہ ہے اس کا
یہ حال ہوا اس کے فقیروں سے ہویدا
آلودۂ دنیا جو ہے بیگانہ ہے اس کا
شکرانۂ ساقی ازل کرتا ہے آتشؔ
لبریز مئے شوق سے پیمانہ ہے اس کا
حیدر علی آتش
مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہے
الٹتی ہیں صفیں گردش میں جب پیمانہ آتا ہے
نہایت دل کو ہے مرغوب بوسہ خال مشکیں کا
دہن تک اپنے کب تک دیکھیے یہ دانہ آتا ہے
خوشی سے اپنی رسوائی گوارا ہو نہیں سکتی
گریباں پھاڑتا ہے تنگ جب دیوانہ آتا ہے
فراق یار میں دل پر نہیں معلوم کیا گزری
جو اشک آنکھوں میں آتا ہے سو بیتابانہ آتا ہے
بگولے کی طرح کس کس خوشی سے خاک اڑاتا ہوں
تلاش گنج میں جو سامنے ویرانہ آتا ہے
سمجھتے ہیں مرے دل کی وہ کیا نافہم و ناداں ہیں
حضور شمع بے مطلب نہیں پروانہ آتا ہے
طلب دنیا کو کر کے زن مریدی ہو نہیں سکتی
خیال آبروئے ہمت مردانہ آتا ہے
ہمیشہ فکر سے یاں عاشقانہ شعر ڈھلتے ہیں
زباں کو اپنی بس اک حسن کا افسانہ آتا ہے
تماشا گاہ ہستی میں عدم کا دھیان ہے کس کو
کسے اس انجمن میں یاد خلوت خانہ آتا ہے
صبا کی طرح ہر اک غیرت گل سے ہیں لگ چلتے
محبت ہے سرشت اپنی ہمیں یارانہ آتا ہے
زیارت ہوگی کعبہ کی یہی تعبیر ہے اس کی
کئی شب سے ہمارے خواب میں بت خانہ آتا ہے
خیال آیا ہے آئینہ کا منہ اس میں وہ دیکھیں گے
اب الجھے بال سکھلانے کی خاطر شانہ آتا ہے
پھنسا دیتا ہے مرغ دل کو دام زلف پیچاں میں
تمہارے خال رخ کو بھی فریب دانہ آتا ہے
عتاب و لطف جو فرماؤ ہر صورت سے راضی ہیں
شکایت سے نہیں واقف ہمیں شکرانہ آتا ہے
خدا کا گھر ہے بت خانہ ہمارا دل نہیں آتشؔ
مقام آشنا ہے یاں نہیں بیگانہ آتا ہے
حیدر علی آتش