سوچتا ہوں رات جو سورج تھا دائیں ہاتھ میں
سوچتا ہوں رات جو سورج تھا دائیں ہاتھ میں
صبح کیسے ڈھل گیا وہ میرے بائیں ہاتھ میں
ہم اگر کچھ اور اپنے ذہن و دل روشن کریں
دوستو یہ ماہ و انجم جگمگائیں ہاتھ میں
حل نہ ہو پایا اگر قحط زمیں کا مسئلہ
یہ بھی ممکن ہے کہ ہم فصلیں اگائیں ہاتھ میں
دشت چشم و قلب میں بھی جو نظر آتا نہیں
آؤ ہم تم کو وہی منظر دکھائیں ہاتھ میں
جب حصار خوف سے آزاد ہو جاتا ہے دل
قید ہو جاتی ہیں تب ساری بلائیں ہاتھ میں
جب مری سانسوں سے یہ ماحول یخ بستہ ہوا
منجمد ہونے لگیں جلتی ہوائیں ہاتھ میں
شاعری کی یہ شب تاریک ڈھلتی ہی نہیں
کیفؔ کب تک ہم چراغ فن جلائیں ہاتھ میں
کیف احمد صدیقی