سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرے
خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرے ترے غم نے بٹھا رکھے ہیں پہرے کہاں چھوڑ آئی میری تیرہ بختی وہ راتیں نور کی وہ دن سنہرے مری جانب نہ دیکھو مسکرا کر ہوئے جاتے ہیں دل کے زخم گہرے نظر پر تیرگی چھائی ہوئی ہے مگر آنکھوں میں ہیں سپنے سنہرے جدھر بھی دیکھتا ہوں کیفؔ ادھر ہی گھرے ہیں غم کے بادل گہرے گہرے
سو بار یوں گرجنے کو بادل گرج گیا
سو بار یوں گرجنے کو بادل گرج گیا لیکن زمین خشک کو کچھ بھی نہ تج گیا گھر جا کے موتیوں کی طرح جگمگا اٹھی میں اپنے ساتھ لے کے جو دریا کی رج گیا ہر تاجور کی تاجوری زیر خاک ہے لیکن ابھی کلاہ انا کا نہ کج گیا جب بھی ترے خیال کی خوشبو مہک اٹھی کمرہ سہاگ رات کے پھولوں سے سج گیا دو مہر و ماہ ایک ہی قالب میں ڈھل گئے اکثر شب وصال کا جب ایک بج گیا زاہد میں آج تک نہ حرم تک گیا مگر کوئے صنم میں روز ہی کرنے کو حج گیا برسوں سے فن کی کشت تھی بنجر پڑی ہوئی اے کیفؔ تیرے خون سے کیا کیا اپج گیا