سو بار یوں گرجنے کو بادل گرج گیا
سو بار یوں گرجنے کو بادل گرج گیا
لیکن زمین خشک کو کچھ بھی نہ تج گیا
گھر جا کے موتیوں کی طرح جگمگا اٹھی
میں اپنے ساتھ لے کے جو دریا کی رج گیا
ہر تاجور کی تاجوری زیر خاک ہے
لیکن ابھی کلاہ انا کا نہ کج گیا
جب بھی ترے خیال کی خوشبو مہک اٹھی
کمرہ سہاگ رات کے پھولوں سے سج گیا
دو مہر و ماہ ایک ہی قالب میں ڈھل گئے
اکثر شب وصال کا جب ایک بج گیا
زاہد میں آج تک نہ حرم تک گیا مگر
کوئے صنم میں روز ہی کرنے کو حج گیا
برسوں سے فن کی کشت تھی بنجر پڑی ہوئی
اے کیفؔ تیرے خون سے کیا کیا اپج گیا
کیف احمد صدیقی