کیف احمد صدیقی

تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی

12 January 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرے

خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرے ترے غم نے بٹھا رکھے ہیں پہرے کہاں چھوڑ آئی میری تیرہ بختی وہ راتیں نور کی وہ دن سنہرے مری جانب نہ دیکھو مسکرا کر ہوئے جاتے ہیں دل کے زخم گہرے نظر پر تیرگی چھائی ہوئی ہے مگر آنکھوں میں ہیں سپنے سنہرے جدھر بھی دیکھتا ہوں کیفؔ ادھر ہی گھرے ہیں غم کے بادل گہرے گہرے

— کیف احمد صدیقی

سو بار یوں گرجنے کو بادل گرج گیا

سو بار یوں گرجنے کو بادل گرج گیا لیکن زمین خشک کو کچھ بھی نہ تج گیا گھر جا کے موتیوں کی طرح جگمگا اٹھی میں اپنے ساتھ لے کے جو دریا کی رج گیا ہر تاجور کی تاجوری زیر خاک ہے لیکن ابھی کلاہ انا کا نہ کج گیا جب بھی ترے خیال کی خوشبو مہک اٹھی کمرہ سہاگ رات کے پھولوں سے سج گیا دو مہر و ماہ ایک ہی قالب میں ڈھل گئے اکثر شب وصال کا جب ایک بج گیا زاہد میں آج تک نہ حرم تک گیا مگر کوئے صنم میں روز ہی کرنے کو حج گیا برسوں سے فن کی کشت تھی بنجر پڑی ہوئی اے کیفؔ تیرے خون سے کیا کیا اپج گیا

— کیف احمد صدیقی