مری بٹیا
تجھے بھی میں نے جنما تھا اسی دکھ سے
کہ جس دکھ سے ترے بھائی کو جنما
تجھے بھی میں نے اپنے تن سے وابستہ رکھا
اتنی ہی مدت تک
کہ جب تک تیرے بھائی کو
مرے تن کے ہر اک دکھ سکھ میں تم دونوں کا حصہ
ایک جیسا مادر فطرت نے رکھا تھا
مگر تو جس گھڑی دھرتی پہ آئی
وراثت بانٹنے والوں نے اپنا فیصلہ لکھا
تجھے مجھ سے شکایت ہے
کہ میں نے پیار کی تقسیم میں تفریق برتی ہے
کھلونے اور آنسو کا جو بٹوارا ہوا اکثر
ترے حصے میں آنسو آئے ہیں پیاری
تجھے یہ جان کر حیرت تو ہوگی
مرے حصے کا اکثر تر نوالہ بھائیوں ہی کو ملا کرتا
مگر ماں سے کوئی کیسے گلہ کرتا
مری جاں رزق کی تقسیم میں
تفریق کا قانون تو صدیوں پرانا ہے
وراثت بانٹنے والوں نے جو بھی فیصلہ لکھا
اسے ہم نے بجا سمجھا بجا لکھا
ہمارا المیہ یہ ہے
کہ اپنی راہ کی دیوار ہم خود ہیں
یہ عورت ہے
کہ جو عورت کے حق میں اب بھی گونگی ہے
یہ عورت ہے
کہ جو عورت کی امیدوں کی قاتل ہے
تو کیا تاریخ خود کو یوں ہی دہراتی رہے گی
نہیں ایسا نہیں ہوگا
یہ تیری جرأت اظہار یہ بپھرا ہوا لہجہ
یقیں مجھ کو دلاتے ہیں
تری بیٹی کو یہ شکوہ نہیں ہوگا
عشرت آفریں
سنا ہے تم منوں مٹی تلے آرام کرتی ہو
تم اور آرام نا ممکن
سنا ہے موت سے بھی آخری دم تک لڑائی کی
مجھے معلوم ہے تم کتنی ضدی تھیں
قسم ان کھردرے ہاتھوں کی
میں جن میں قلم پکڑے ہوئے ہوں
نہایت بے ایمانی سے
تمہیں ہر بار میں تم سے چرا کر نظم بنتی ہوں
کہانی کاڑھتی ہوں
اور سب سے جھوٹ کہتی ہوں
کہ سارے حرف میرے ہیں
سنا ہے جس گھڑی دنیا میں میں آئی
تمہیں نے شہد بھی مجھ کو چٹایا
ریشمی انگلی سے کاجل بھی لگایا تھا
وہ پہلا شہد کا قطرہ
مرے شعروں میں رس بن کر مہکتا ہے
تو مجھ پر داد اور تحسین کی برسات ہوتی ہے
وہ کاجل ریشمی انگلی سے جو تم نے لگایا تھا
مری آنکھوں میں ایسا نور لایا
کہ جو نیکی بدی میں خط فاصل کھینچ دیتا ہے
ترائی کے بہت چھوٹے سے قصبے کے
کسی خاموش آنگن میں
مجھے تم دودھ چاول
چاند کی میٹھی کٹوری میں کھلاتی تھیں
تو رانی کیتکی والی کہانی بھی سناتی تھیں
کبھی تم اپنے پہلو میں لٹا کر
آسماں کے نت نئے اسرار سمجھاتیں
وہ دیکھو
کہکشاں کہتے ہیں جس کو یہ حقیقت میں
نبی جی کی سواری کے قدم کی دھول ہے ساری
کبھی تم دل نشیں آواز میں لوری سناتی تھیں
مگر میں بھی تمہاری ہی طرح کی ایک ضدی تھی
مجھے کب نیند آتی تھی
تمہاری ریشمی انگلی پکڑ کر میں
انوکھی کہکشاؤں کے سفر پر چل نکلتی تھی
انوکھی کہکشائیں جو گلی کوچوں میں بکھری تھیں
وہ اک نا بینا بڑھیا
جس کے ٹوٹے جھونپڑے میں
شب کی تاریکی میں تم جا کر
نوالہ اپنے ہاتھوں سے کھلاتی تھیں
محلے میں کوئی بچہ جو آدھی رات کو روتا
تو تم بے چین ہی رہتی تھیں جب تک ہو نہ آتی تھیں
تمہیں بچوں سے اور بچوں کو تم سے عشق تھا گویا
کہا جاتا ہے تم دشمن بنانے میں بھی ماہر تھیں
حریص ایسی
کہ کم قیمت کوئی ملبوس نظروں میں نہ لاتی تھیں
غنی ایسی
کہ اک لقمہ نہ مرضی کے خلاف اپنے اٹھاتی تھیں
رعونت اور درویشی
تمہاری ذات کے اک منطقے پر آن ملتے تھے
شکایت رنج بیماری
یہ وہ الفاظ تھے جن کو
لغت سے اپنی خارج کر دیا تھا جانے کب تم نے
سنا یہ ہے تمہیں قرآن بھی اچھی طرح پڑھنا نہ آتا تھا
مگر میں نے تو یہ دیکھا
گلی کے کتنے ہی آوارہ کتے دم دبا کر بیٹھ جاتے تھے
تمہاری ایک صم اور بکمن کی تلاوت سے
تمہارے ہاتھ کے میٹھے ملیدے میں
جو درگاہوں کی خوشبو تھی
میں لکھنا چاہتی ہوں تو
سمٹ کر جذب ہو جاتی ہے کاغذ میں
تمہارے پوپلے ہونٹوں کا نازک خم
اک ایسا حرف ابجد تھا
جسے جتنا میں پڑھتی ہوں
نئے اسرار کھلتے ہیں
روپہلی جلد کی افشاں بکھر جاتی ہے کاغذ پر
کبھی قرطاس پر تم جھریوں میں جھلملاتی ہو
ہمیشہ کی طرح سے میٹھے میٹھے مسکراتی ہو
تو اپنے کھردرے ہاتھوں کو میں حیرت سے تکتی ہوں
سنا یہ ہے تمہیں لکھنا نہ آتا تھا
تمہارے ہاتھ کی کپڑے کی گڑیا
اور گلابی رنگ کی مٹی کی چڑیا
لفظ بن کر جب بھی کاغذ پر چہکتی ہیں
میں چالاکی سے ہنستی ہوں
چلو اچھا ہے لوگوں کو یہی معلوم ہے اب تک
تمہیں لکھنا نہ آتا تھا
عشرت آفریں
میرا پیار
اس بستی کے نام
جہاں مرے بچپن کی ننھی منی یادیں سوتی ہیں
جہاں مری معصوم تمناؤں نے گھروندے کھینچے تھے
میرا پیار
اس ٹھنڈے گہرے نیلم تالاب کے نام
جس کی اجلی مٹی مرے کھلونوں کے کام آتی تھی
میرا پیار
اس گھر کے نام
جس کی سبز منڈیروں پر
میرے ہاتھ کی رنگی ہوئی گوریا اب بھی چہکتی ہوگی
جس کے طاق میں میری ننھی گڑیا اب بھی سوتی ہوگی
میرا رستہ تکتی ہوگی چپکے چپکے روتی ہوگی
میرا پیار
اس کھیت اور اس کھلیان کے نام
جہاں میں چاندنی راتوں کو
اکثر آنکھ مچولی کھیلا کرتی تھی
میرا پیار
ان اجڑے ہوئے باغات کے نام
جہاں بنفشہ رنگ شگوفوں اور کسم کے پھولوں میں
میں پہروں ڈولا کرتی تھی
پر پھیلاتی چم چم کرتی تیتریوں پر مرتی تھی
ان کا تعاقب کرتی تھی
میرا پیار
بیتے ہوئے لمحات کے نام
ان اجڑے باغات کے نام
ان سونے کھنڈرات کے نام
جو میرے پرکھوں کی انا کا مدفن ہیں
عشرت آفریں
میں داستانِ عشق ہوں تحریر کر مُجھے
کاغذ پے رنگ بکھیر کے تصویر کر مُجھے
بھر دے میرے وجُود میں پڑتی ہوئی دراڑ
آکر نئے سِرے سے ہی تعمیر کر مُجھے
پھر راہگزارِ نیند میں آنکھیں بِچھا کبھی
پھر سے حسین خواب کی تعبیر کر مُجھے
رکھ کر خیالِ یار کی تحویل میں سدا
تا عُمر اُسکی یاد کی زنجیر کر مُجھے
اپنے سبھی غموں کا مداوا بنا مُجھے
مرہم لگا کے زخم پے تاثیر کر مُجھے
میں آشکارِ اُلجھنِ حیات بھی تو ہوں
کُچھ درد مُجھ سے بانٹ کے تدبیر کر مُجھے
تُو شہنشاہِ سلطنتِ حُسن ہی سہی
آ جیت لے یہ دل میرا جاگیر کر مُجھے
اس کاروانِ زیست میں مجھکو تیاگ دے
پھر اِک نئے جہان میں تسخیر کر مُجھے
سائرہ راحیل خان
نا معلوم