عشرت آفریں

تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں

30 December 2025

12سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

اگلے جنم موہے بٹیا ہی کیجو

مری بٹیا تجھے بھی میں نے جنما تھا اسی دکھ سے کہ جس دکھ سے ترے بھائی کو جنما تجھے بھی میں نے اپنے تن سے وابستہ رکھا اتنی ہی مدت تک کہ جب تک تیرے بھائی کو مرے تن کے ہر اک دکھ سکھ میں تم دونوں کا حصہ ایک جیسا مادر فطرت نے رکھا تھا مگر تو جس گھڑی دھرتی پہ آئی وراثت بانٹنے والوں نے اپنا فیصلہ لکھا تجھے مجھ سے شکایت ہے کہ میں نے پیار کی تقسیم میں تفریق برتی ہے کھلونے اور آنسو کا جو بٹوارا ہوا اکثر ترے حصے میں آنسو آئے ہیں پیاری تجھے یہ جان کر حیرت تو ہوگی مرے حصے کا اکثر تر نوالہ بھائیوں ہی کو ملا کرتا مگر ماں سے کوئی کیسے گلہ کرتا مری جاں رزق کی تقسیم میں تفریق کا قانون تو صدیوں پرانا ہے وراثت بانٹنے والوں نے جو بھی فیصلہ لکھا اسے ہم نے بجا سمجھا بجا لکھا ہمارا المیہ یہ ہے کہ اپنی راہ کی دیوار ہم خود ہیں یہ عورت ہے کہ جو عورت کے حق میں اب بھی گونگی ہے یہ عورت ہے کہ جو عورت کی امیدوں کی قاتل ہے تو کیا تاریخ خود کو یوں ہی دہراتی رہے گی نہیں ایسا نہیں ہوگا یہ تیری جرأت اظہار یہ بپھرا ہوا لہجہ یقیں مجھ کو دلاتے ہیں تری بیٹی کو یہ شکوہ نہیں ہوگا

— عشرت آفریں

تمہیں لکھنا نہ آتا تھا

سنا ہے تم منوں مٹی تلے آرام کرتی ہو تم اور آرام نا ممکن سنا ہے موت سے بھی آخری دم تک لڑائی کی مجھے معلوم ہے تم کتنی ضدی تھیں قسم ان کھردرے ہاتھوں کی میں جن میں قلم پکڑے ہوئے ہوں نہایت بے ایمانی سے تمہیں ہر بار میں تم سے چرا کر نظم بنتی ہوں کہانی کاڑھتی ہوں اور سب سے جھوٹ کہتی ہوں کہ سارے حرف میرے ہیں سنا ہے جس گھڑی دنیا میں میں آئی تمہیں نے شہد بھی مجھ کو چٹایا ریشمی انگلی سے کاجل بھی لگایا تھا وہ پہلا شہد کا قطرہ مرے شعروں میں رس بن کر مہکتا ہے تو مجھ پر داد اور تحسین کی برسات ہوتی ہے وہ کاجل ریشمی انگلی سے جو تم نے لگایا تھا مری آنکھوں میں ایسا نور لایا کہ جو نیکی بدی میں خط فاصل کھینچ دیتا ہے ترائی کے بہت چھوٹے سے قصبے کے کسی خاموش آنگن میں مجھے تم دودھ چاول چاند کی میٹھی کٹوری میں کھلاتی تھیں تو رانی کیتکی والی کہانی بھی سناتی تھیں کبھی تم اپنے پہلو میں لٹا کر آسماں کے نت نئے اسرار سمجھاتیں وہ دیکھو کہکشاں کہتے ہیں جس کو یہ حقیقت میں نبی جی کی سواری کے قدم کی دھول ہے ساری کبھی تم دل نشیں آواز میں لوری سناتی تھیں مگر میں بھی تمہاری ہی طرح کی ایک ضدی تھی مجھے کب نیند آتی تھی تمہاری ریشمی انگلی پکڑ کر میں انوکھی کہکشاؤں کے سفر پر چل نکلتی تھی انوکھی کہکشائیں جو گلی کوچوں میں بکھری تھیں وہ اک نا بینا بڑھیا جس کے ٹوٹے جھونپڑے میں شب کی تاریکی میں تم جا کر نوالہ اپنے ہاتھوں سے کھلاتی تھیں محلے میں کوئی بچہ جو آدھی رات کو روتا تو تم بے چین ہی رہتی تھیں جب تک ہو نہ آتی تھیں تمہیں بچوں سے اور بچوں کو تم سے عشق تھا گویا کہا جاتا ہے تم دشمن بنانے میں بھی ماہر تھیں حریص ایسی کہ کم قیمت کوئی ملبوس نظروں میں نہ لاتی تھیں غنی ایسی کہ اک لقمہ نہ مرضی کے خلاف اپنے اٹھاتی تھیں رعونت اور درویشی تمہاری ذات کے اک منطقے پر آن ملتے تھے شکایت رنج بیماری یہ وہ الفاظ تھے جن کو لغت سے اپنی خارج کر دیا تھا جانے کب تم نے سنا یہ ہے تمہیں قرآن بھی اچھی طرح پڑھنا نہ آتا تھا مگر میں نے تو یہ دیکھا گلی کے کتنے ہی آوارہ کتے دم دبا کر بیٹھ جاتے تھے تمہاری ایک صم اور بکمن کی تلاوت سے تمہارے ہاتھ کے میٹھے ملیدے میں جو درگاہوں کی خوشبو تھی میں لکھنا چاہتی ہوں تو سمٹ کر جذب ہو جاتی ہے کاغذ میں تمہارے پوپلے ہونٹوں کا نازک خم اک ایسا حرف ابجد تھا جسے جتنا میں پڑھتی ہوں نئے اسرار کھلتے ہیں روپہلی جلد کی افشاں بکھر جاتی ہے کاغذ پر کبھی قرطاس پر تم جھریوں میں جھلملاتی ہو ہمیشہ کی طرح سے میٹھے میٹھے مسکراتی ہو تو اپنے کھردرے ہاتھوں کو میں حیرت سے تکتی ہوں سنا یہ ہے تمہیں لکھنا نہ آتا تھا تمہارے ہاتھ کی کپڑے کی گڑیا اور گلابی رنگ کی مٹی کی چڑیا لفظ بن کر جب بھی کاغذ پر چہکتی ہیں میں چالاکی سے ہنستی ہوں چلو اچھا ہے لوگوں کو یہی معلوم ہے اب تک تمہیں لکھنا نہ آتا تھا

— عشرت آفریں

مدفن

میرا پیار اس بستی کے نام جہاں مرے بچپن کی ننھی منی یادیں سوتی ہیں جہاں مری معصوم تمناؤں نے گھروندے کھینچے تھے میرا پیار اس ٹھنڈے گہرے نیلم تالاب کے نام جس کی اجلی مٹی مرے کھلونوں کے کام آتی تھی میرا پیار اس گھر کے نام جس کی سبز منڈیروں پر میرے ہاتھ کی رنگی ہوئی گوریا اب بھی چہکتی ہوگی جس کے طاق میں میری ننھی گڑیا اب بھی سوتی ہوگی میرا رستہ تکتی ہوگی چپکے چپکے روتی ہوگی میرا پیار اس کھیت اور اس کھلیان کے نام جہاں میں چاندنی راتوں کو اکثر آنکھ مچولی کھیلا کرتی تھی میرا پیار ان اجڑے ہوئے باغات کے نام جہاں بنفشہ رنگ شگوفوں اور کسم کے پھولوں میں میں پہروں ڈولا کرتی تھی پر پھیلاتی چم چم کرتی تیتریوں پر مرتی تھی ان کا تعاقب کرتی تھی میرا پیار بیتے ہوئے لمحات کے نام ان اجڑے باغات کے نام ان سونے کھنڈرات کے نام جو میرے پرکھوں کی انا کا مدفن ہیں

— عشرت آفریں

میں داستانِ عشق ہوں تحریر کر مُجھے

میں داستانِ عشق ہوں تحریر کر مُجھے کاغذ پے رنگ بکھیر کے تصویر کر مُجھے بھر دے میرے وجُود میں پڑتی ہوئی دراڑ آکر نئے سِرے سے ہی تعمیر کر مُجھے پھر راہگزارِ نیند میں آنکھیں بِچھا کبھی پھر سے حسین خواب کی تعبیر کر مُجھے رکھ کر خیالِ یار کی تحویل میں سدا تا عُمر اُسکی یاد کی زنجیر کر مُجھے اپنے سبھی غموں کا مداوا بنا مُجھے مرہم لگا کے زخم پے تاثیر کر مُجھے میں آشکارِ اُلجھنِ حیات بھی تو ہوں کُچھ درد مُجھ سے بانٹ کے تدبیر کر مُجھے تُو شہنشاہِ سلطنتِ حُسن ہی سہی آ جیت لے یہ دل میرا جاگیر کر مُجھے اس کاروانِ زیست میں مجھکو تیاگ دے پھر اِک نئے جہان میں تسخیر کر مُجھے سائرہ راحیل خان

— نا معلوم