دل ہے یا میلے میں کھویا ہوا بچہ کوئی
جس کو بہلا نہیں سکتا ہے کھلونا کوئی
میں تو جلتے ہوئے زخموں کے تلے رہتی ہوں
تو نے دیکھا ہے کبھی دھوپ کا صحرا کوئی
میں لہو ہوں تو کوئی اور بھی زخمی ہوگا
اپنی دہلیز پہ پھینکو تو نہ شیشہ کوئی
خواہشیں دل میں مچل کر یونہی سو جاتی ہیں
جیسے انگنائی میں روتا ہوا بچہ کوئی
زائچے تو نے امیدوں کے بنائے تھے مگر
مٹ گئے حرف گرا آنکھوں سے قطرہ کوئی
چاندنی جب بھی اترتی ہے مرے آنگن میں
کھولتا ہے تری یادوں کا دریچہ کوئی
میرا گھر جس کے در و بام بھی مہمان سے تھے
کاش اس اجڑے ہوئے گھر میں نہ آتا کوئی
دل کوئی پھول نہیں ہے کہ اگر توڑ دیا
شاخ پر اس سے بھی کھل جائے گا اچھا کوئی
تم بھرے شہر میں افکار لیے پھرتے ہو
سب تو مفلس ہیں خریدے گا یہاں کیا کوئی
رات تنہائی کے میلے میں مرے ساتھ تھا وہ
ورنہ یوں گھر سے نکلتا ہے اکیلا کوئی
آفریںؔ درد کا احساس مٹا ہے ایسے
جیسے بچپن میں بنایا تھا گھروندا کوئی
عشرت آفریں
لڑکیاں ماؤں جیسے مقدر کیوں رکھتی ہیں
تن صحرا اور آنکھ سمندر کیوں رکھتی ہیں
عورتیں اپنے دکھ کی وراثت کس کو دیں گی
صندوقوں میں بند یہ زیور کیوں رکھتی ہیں
وہ جو آپ ہی پوجی جانے کے لائق تھیں
چمپا سی پوروں میں پتھر کیوں رکھتی ہیں
وہ جو رہی ہیں خالی پیٹ اور ننگے پاؤں
بچا بچا کر سر کی چادر کیوں رکھتی ہیں
بند حویلی میں جو سانحے ہو جاتے ہیں
ان کی خبر دیواریں اکثر کیوں رکھتی ہیں
صبح وصال کی کرنیں ہم سے پوچھ رہی ہیں
راتیں اپنے ہاتھ میں خنجر کیوں رکھتی ہیں
عشرت آفریں
کئی دنوں سے
مجھے وہ میسج میں لکھ رہی تھی
جنابِ عالی
حضورِ والا
بس اِک منٹ مجھ سے بات کر لیں
میں اِک منٹ سے اگر تجاوز کروں
تو بے شک نہ کال سننا
میں زیرِ لب مُسکرا کے لکھتا
بہت بزی ہوں
ابھی نئی نظم ہو رہی ہے
وہ اگلے میسج میں پھر یہ لکھتی
سسکتی روتی بلکتی نظموں کے عمدہ شاعر
تم اپنی نظمیں تراشو لیکن
کبھی تو میری طرف بھی دیکھو
کبھی تو مجھ سے بھی بات کر لو
بس اِک منٹ میری بات سُن لو
میں ہنس کے لکھتا
فضول لڑکی
بہت بزی ہوں
بس اِک منٹ ہی تو ہے نہیں ناں
وہ کئی دنوں تک خموش رہتی
پھر ایک دن میں نے اُس کی حالت پہ رحم کھا کر
جواب لکھا
بس اِک منٹ ہے
اور اِک منٹ سے زیادہ بالکل نہیں سنوں گا
تو اس نے اوکے لکھا اور اِک دم سے کال کر دی
میں کال پِک کر کے چُپ کھڑا تھا
وہ گہرا لمبا سا سانس لے کر
اُداس لہجے میں بولی سر جی
میں جانتی ہوں کہ اِک منٹ ہے
اور اِک منٹ میں
میں اپنے اندر کی ساری باتیں کسی بھی صورت نہ کہہ سکوں گی
سلگتی ہجرت زدہ رُتوں کو اُداس نظموں میں لکھنے والے
عظیم شاعر
خُدا کی دھرتی پہ رہنے والے
اُداس لوگوں کا دُکھ بھی لکھنا
کبھی محبت میں جلتے لوگوں کا دُکھ سمجھنا
کبھی کسی نظم میں بتانا جنہیں تمہاری رفاقتیں ہی کبھی میسر نہیں ہوئی ہیں
جنہیں تمہاری محبتیں ہی کھبی میسر نہیں ہوئی ہیں
کبھی جو محرومیوں کے موسم بہت ستائیں تو کیا کریں وہ
کبھی جو تنہائیوں کی شامیں بہت رُلائیں تو کیا کریں وہ
ابھی تو آدھا منٹ پڑا تھا
مگر وہ لائن سے ہٹ چکی تھی
وہ اِک منٹ کی جو کال تھی ناں
وہ تیس سیکنڈ میں کٹ چکی تھی
میں کتنے برسوں سے اگلا آدھا منٹ گزرنے کا منتظر ہوں
وہ نرم لیکن اُداس لہجے میں بات کرتی
اُداس لڑکی مِری سماعت کے
اَدھ کھلے دَر سے یونہی اب تک لگی ہوئی ہے
ہٹی نہیں ہے
بہت سے سالوں سے چل رہی ہے
وہ کال اب تک کٹی نہیں ہے
میثم علی آغا