عشرت آفرین، جن کا اصل نام عشرت جہان ہے، اردو ادب کی ایک ممتاز شاعرہ اور ادبی شخصیت ہیں۔ وہ 25 دسمبر 1956ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں اور اپنے گھرانے میں سب سے بڑی بچی تھیں۔ کم عمری سے ہی ادب سے لگاؤ رکھنے والی عشرت آفرین نے ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اور بعد میں جامعہ کراچی سے ایم۔اے۔ اردو ادب کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے ابتدائی اشعار صرف 14 سال کی عمر میں شائع ہوئے اور تب سے ان کی شاعری نے پاکستان اور بھارت کے ادبی رسالوں میں جگہ بنائی۔ انہوں نے آغا خان اسکول میں تدریسی خدمات انجام دیں اور ماہنامہ ادبی رسالہ "آواز" میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کیا۔
عشرت آفرین کی شاعری میں خواتین کے حقوق، سماجی شعور، انفرادیت اور روایتی اقدار سے بغاوت جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کے کلام کا انداز جدید اور بامعنی ہے، اور وہ خود کو مولانا محمد اقبال اور فیض احمد فیض کی ادبی روایت سے قریب محسوس کرتی ہیں۔ان کی مشہور تصانیف میں کنج پیلے پھولوں کااور دھوپ اپنے حصے کی شامل ہیں، جن کے اشعار کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکے ہیں۔ عشرت آفرین نے 1970 سے 1984 تک ریڈیو پاکستان کے پروگراموں میں بھی حصہ لیا، جس سے ان کی شہرت قومی اور بین الاقوامی سطح پر بڑھی۔
عشرت آفرین نے 1985ء میں سید پرویز جعفری سے شادی کی اور کچھ سال بعد امریکہ کے شہر ہیوسٹن، ٹیکساس منتقل ہو گئیں۔ وہ تین بچوں کی والدہ ہیں اور آج بھی ادبی محافل میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ عشرت آفرین نے متعدد بین الاقوامی اعزازات حاصل کیے، جن میں Sajjad Zaheer Award (1986) اور Ahmed Adaya Award (2006) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ University of Texas at Austin میں اردو پروگرام میں Principal Urdu Lecturer کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں اور اردو ادب کو عالمی سطح پر فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ عشرت آفرین نہ صرف اردو ادب کی بااثر شاعرہ ہیں بلکہ وہ خواتین کے حقوق اور سماجی شعور کے فروغ کی بھی علمبردار ہیں۔