دل آشفتہ پہ الزام کئی یاد آئے
جب ترا ذکر چھڑا نام کئی یاد آئے
تجھ سے چھٹ کر بھی گزرنی تھی سو گزری لیکن
لمحہ لمحہ سحر و شام کئی یاد آئے
ہائے نوعمر ادیبوں کا یہ انداز بیاں
اپنے مکتوب ترے نام کئی یاد آئے
آج تک مل نہ سکا اپنی تباہی کا سراغ
یوں ترے نامہ و پیغام کئی یاد آئے
کچھ نہ تھا یاد بجز کار محبت اک عمر
وہ جو بگڑا ہے تو اب کام کئی یاد آئے
خود جو لب تشنہ تھے جب تک تو کوئی یاد نہ تھا
پیاس بجھتے ہی تہی جام کئی یاد آئے
جمیل الدین عالی
عمر بھر کا یاد ہے بس ایک افسانہ مجھے
میں نے پہچانا جسے اس نے نہ پہچانا مجھے
انجمن کی انجمن مجھ سے مخاطب ہو گئی
آپ نے دیکھا تھا شاید بے نیازانہ مجھے
پہلے دیوانہ کہا کرتے تھے لیکن آج کل
لوگ کہتے ہیں سراپا تیرا افسانہ مجھے
گاہے گاہے ذکر کر لینے سے کیا یاد آئے گا
یاد ہی رکھنا مجھے یا بھول ہی جانا مجھے
خواب ہی دیکھا ہے لیکن ہائے کس لذت کا خواب
وہ مرے گھر تیرا آنا اور بہلانا مجھے
جمیل الدین عالی
خدا کہوں گا تمھیں، ناخدا کہوں گا تمھیں
پکارنا ہی پڑے گا تو کیا کہوں گا تمھیں
میری پسند میرے نام پر نہ حرف آئے
بہت حسیں بہت با وفا کہوں گا تمھیں
ہزار دوست ہیں، وجہِ ملال پوچھیں گے
سبب تو صرف تمھی ہو، میں کیا کہوں گا تمھیں
ابھی سے ذہن میں رکھنا نزاکتیں میری
کہ ہر نگاہِ کرم پر خفا کہوں گا تمھیں
ابھی سے اپنی بھی مجبوریوں کو سوچ رکھو
کہ تم ملو نہ ملو مدعا کہوں گا تمھیں
الجھ رہا ہے تو الجھے گروہِ تشبیہات
بس اور کچھ نہ کہوں گا ادا کہوں گا تمھیں
قسم شرافتِ فن کی کہ اب غزل میں کبھی
تمھارا نام نہ لوں گا صبا کہوں گا تمھیں
جمیل الدین عالی
کوئی بہار کی خاطر کوئی خزاں کے لیے
بس ایک میں ہی رہا صرف گلستاں کے لیے
الٰہی مجھ سے نظر چھین لے کہ اہل نظر
تمام عمر تڑپتے ہیں رازداں کے لیے
مسرتیں جو ملیں تیرے لطف پیہم سے
مچل رہی ہیں کسی جور ناگہاں کے لیے
مجھے ہیں خار سے کچھ خاص نسبتیں کہ یہ گل
بہار میں نہ کھلا رونق خزاں کے لیے
ہمیں ان اہل سخن میں نہ کر شمار کہ یہ
فغاں بھی کرتے ہیں خوش وقتئ فغاں کے لیے
کریں نہ ذکر تمہارا تو کیا کریں کہ ہمیں
کچھ اور مل نہ سکا اپنی داستاں کے لیے
ہمارے دیس میں ایران و نجد سے استاد
بلائے جاتے ہیں تعلیم عاشقاں کے لیے
ہمارے شہر میں فن کے اجارہ داروں نے
کچل رکھا ہے دلوں کو فقط زباں کے لیے
ہم اپنے دیس اور اپنے ہی شہر میں عالیؔ
گدا گری پہ ہیں مجبور سوز جاں کے لیے
جمیل الدین عالی
یہ عشق کی گلیاں جن میں ہم کس کس عالم میں آئے گئے
کہتی ہیں کہ حضرت اب کیسے تم آج یہاں کیوں پائے گئے
اک شرط ہے یاں خوشبوئے وفا یاد آئے تو کرنا یاد ذرا
جب تم پہ بھروسا تھا گل کا کیا مہکے کیا مہکائے گئے
ہے یہ وہی لوح باب جنوں لکھا ہے نہ پوچھو کیا اور کیوں
تم لائے کلید جذب دروں اور سب منظر دکھلائے گئے
اک تخت روان شعر آیا کچھ شاہ سخن نہ فرمایا
پھر تاج ترنم پہنایا اور غزلوں میں تلوائے گئے
اک طبع رسا سے کیا بنتا یہ ان گلیوں کا صدقہ تھا
وہ لفظ اور وہ اسلوب ملے اور وہ معنی سجوائے گئے
حیرت سے ٹھہر جاتی تھی یہاں یہ کہتی ہوئی ہر کاہکشاں
جب یوں مل جانا ممکن ہے تو پھر ہم کیوں پھیلائے گئے
دنیا کے سہی انداز بہت ان گلیوں کے بھی ہیں راز بہت
جو ٹھہرے وہ سرافراز ہوئے جو نکلے وہ ٹھکرائے گئے
جمیل الدین عالی