میں تری یاد کو سینے سے لگائے گزرا
اجنبی شہر کی مشغول گزر گاہوں سے
بے وفائی کی طرح پھیلی ہوئی راہوں سے
نئی تہذیب کے آباد بیابانوں سے
دست مزدور پہ ہنستے ہوئے ایوانوں سے
میں تری یاد کو سینے سے لگائے گزرا
گاؤں کی دوپہری دھوپ کے سناٹوں سے
خشک نہروں کے کناروں پہ تھکی چھاؤں سے
اپنے دل کی طرح روئی ہوئی پگ ڈنڈی سے
میں تری یاد کو سینے سے لگائے پہونچا
بستیاں چھوڑ کے ترسے ہوئے ویرانوں میں
تلخیٔ دہر سمیٹے ہوئے مے خانوں میں
خون انسان پہ پلتے ہوئے انسانوں میں
جانے پہچانے ہوئے لوگوں میں انجانوں میں
میں تری یاد کو سینے سے لگائے پہونچا
اپنے احباب ترے غم کے پرستاروں میں
اپنی روٹھی ہوئی تقدیر کے غم خواروں میں
اپنے ہم منزل و ہم راستہ فنکاروں میں
اور فن کار کی سانسوں کے خریداروں میں
میں تری یاد کو سینے سے لگائے پہونچا
یہ سمجھ کر کہ کوئی آنکھ ادھر اٹھے گی
میری مغموم نگاہی کو مجھے سمجھے گی
لیکن اے دوست یہ دنیا ہے یہاں تیرا غم
ایک انسان کو تسکین بھی دے سکتا ہے
ایک انسان کا آرام بھی لے سکتا ہے
خوں میں ڈوبی ہوئی تحریر بھی بن سکتا ہے
ایک فن کار کی تقدیر بھی بن سکتا ہے
ساری دنیا کے مگر کام نہیں آ سکتا
سب کے ہونٹوں پہ ترا نام نہیں آ سکتا
وسیم بریلوی
دعا کرو کہ کوئی پیاس نذر جام نہ ہو
وہ زندگی ہی نہیں ہے جو ناتمام نہ ہو
جو مجھ میں تجھ میں چلا آ رہا ہے صدیوں سے
کہیں حیات اسی فاصلے کا نام نہ ہو
کوئی چراغ نہ آنسو نہ آرزوئے سحر
خدا کرے کہ کسی گھر میں ایسی شام نہ ہو
عجیب شرط لگائی ہے احتیاطوں نے
کہ تیرا ذکر کروں اور تیرا نام نہ ہو
صبا مزاج کی تیزی بھی ایک نعمت ہے
اگر چراغ بجھانا ہی ایک کام نہ ہو
وسیمؔ کتنی ہی صبحیں لہو لہو گزریں
اک ایسی صبح بھی آئے کہ جس کی شام نہ ہو
وسیم بریلوی
سب نے ملائے ہاتھ یہاں تیرگی کے ساتھ
کتنا بڑا مذاق ہوا روشنی کے ساتھ
شرطیں لگائی جاتی نہیں دوستی کے ساتھ
کیجے مجھے قبول مری ہر کمی کے ساتھ
تیرا خیال تیری طلب تیری آرزو
میں عمر بھر چلا ہوں کسی روشنی کے ساتھ
دنیا مرے خلاف کھڑی کیسے ہو گئی
میری تو دشمنی بھی نہیں تھی کسی کے ساتھ
کس کام کی رہی یہ دکھاوے کی زندگی
وعدے کیے کسی سے گزاری کسی کے ساتھ
دنیا کو بے وفائی کا الزام کون دے
اپنی ہی نبھ سکی نہ بہت دن کسی کے ساتھ
قطرے وہ کچھ بھی پائیں یہ ممکن نہیں وسیمؔ
بڑھنا جو چاہتے ہیں سمندر کشی کے ساتھ
وسیم بریلوی
سب نے ملائے ہاتھ یہاں تیرگی کے ساتھ
کتنا بڑا مذاق ہوا روشنی کے ساتھ
شرطیں لگائی جاتی نہیں دوستی کے ساتھ
کیجے مجھے قبول مری ہر کمی کے ساتھ
تیرا خیال تیری طلب تیری آرزو
میں عمر بھر چلا ہوں کسی روشنی کے ساتھ
دنیا مرے خلاف کھڑی کیسے ہو گئی
میری تو دشمنی بھی نہیں تھی کسی کے ساتھ
کس کام کی رہی یہ دکھاوے کی زندگی
وعدے کیے کسی سے گزاری کسی کے ساتھ
دنیا کو بے وفائی کا الزام کون دے
اپنی ہی نبھ سکی نہ بہت دن کسی کے ساتھ
قطرے وہ کچھ بھی پائیں یہ ممکن نہیں وسیمؔ
بڑھنا جو چاہتے ہیں سمندر کشی کے ساتھ
وسیم بریلوی
کتنا دشوار تھا دنیا یہ ہنر آنا بھی
تجھ سے ہی فاصلہ رکھنا تجھے اپنانا بھی
کیسی آداب نمائش نے لگائیں شرطیں
پھول ہونا ہی نہیں پھول نظر آنا بھی
دل کی بگڑی ہوئی عادت سے یہ امید نہ تھی
بھول جائے گا یہ اک دن ترا یاد آنا بھی
جانے کب شہر کے رشتوں کا بدل جائے مزاج
اتنا آساں تو نہیں لوٹ کے گھر آنا بھی
ایسے رشتے کا بھرم رکھنا کوئی کھیل نہیں
تیرا ہونا بھی نہیں اور ترا کہلانا بھی
خود کو پہچان کے دیکھے تو ذرا یہ دریا
بھول جائے گا سمندر کی طرف جانا بھی
جاننے والوں کی اس بھیڑ سے کیا ہوگا وسیمؔ
اس میں یہ دیکھیے کوئی مجھے پہچانا بھی
وسیم بریلوی