مری وفاؤں کا نشہ اتارنے والا
کہاں گیا مجھے ہنس ہنس کے ہارنے والا
ہماری جان گئی جائے دیکھنا یہ ہے
کہیں نظر میں نہ آ جائے مارنے والا
بس ایک پیار کی بازی ہے بے غرض بازی
نہ کوئی جیتنے والا نہ کوئی ہارنے والا
بھرے مکاں کا بھی اپنا نشہ ہے کیا جانے
شراب خانے میں راتیں گزارنے والا
میں اس کا دن بھی زمانے میں بانٹ کر رکھ دوں
وہ میری راتوں کو چھپ کر گزارنے والا
وسیمؔ ہم بھی بکھرنے کا حوصلہ کرتے
ہمیں بھی ہوتا جو کوئی سنوارنے والا
وسیم بریلوی
کیا بتاؤں کیسا خود کو در بدر میں نے کیا
عمر بھر کس کس کے حصے کا سفر میں نے کیا
تو تو نفرت بھی نہ کر پائے گا اس شدت کے ساتھ
جس بلا کا پیار تجھ سے بے خبر میں نے کیا
کیسے بچوں کو بتاؤں راستوں کے پیچ و خم
زندگی بھر تو کتابوں کا سفر میں نے کیا
کس کو فرصت تھی کہ بتلاتا تجھے اتنی سی بات
خود سے کیا برتاؤ تجھ سے چھوٹ کر میں نے کیا
چند جذباتی سے رشتوں کے بچانے کو وسیمؔ
کیسا کیسا جبر اپنے آپ پر میں نے کیا
وسیم بریلوی
کہاں ثواب کہاں کیا عذاب ہوتا ہے
محبتوں میں کب اتنا حساب ہوتا ہے
بچھڑ کے مجھ سے تم اپنی کشش نہ کھو دینا
اداس رہنے سے چہرا خراب ہوتا ہے
اسے پتا ہی نہیں ہے کہ پیار کی بازی
جو ہار جائے وہی کامیاب ہوتا ہے
جب اس کے پاس گنوانے کو کچھ نہیں ہوتا
تو کوئی آج کا عزت مآب ہوتا ہے
جسے میں لکھتا ہوں ایسے کہ خود ہی پڑھ پاؤں
کتاب زیست میں ایسا بھی باب ہوتا ہے
بہت بھروسہ نہ کر لینا اپنی آنکھوں پر
دکھائی دیتا ہے جو کچھ وہ خواب ہوتا ہے
وسیم بریلوی
اپنے سائے کو اتنا سمجھانے دے
مجھ تک میرے حصے کی دھوپ آنے دے
ایک نظر میں کئی زمانے دیکھے تو
بوڑھی آنکھوں کی تصویر بنانے دے
بابا دنیا جیت کے میں دکھلا دوں گا
اپنی نظر سے دور تو مجھ کو جانے دے
میں بھی تو اس باغ کا ایک پرندہ ہوں
میری ہی آواز میں مجھ کو گانے دے
پھر تو یہ اونچا ہی ہوتا جائے گا
بچپن کے ہاتھوں میں چاند آ جانے دے
فصلیں پک جائیں تو کھیت سے بچھڑیں گی
روتی آنکھ کو پیار کہاں سمجھانے دے
وسیم بریلوی
اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہے
کسی کا دھیان آتا ہے اجالا ہونے لگتا ہے
وہ جتنی دور ہو اتنا ہی میرا ہونے لگتا ہے
مگر جب پاس آتا ہے تو مجھ سے کھونے لگتا ہے
کسی نے رکھ دیے ممتا بھرے دو ہاتھ کیا سر پر
مرے اندر کوئی بچہ بلک کر رونے لگتا ہے
محبت چار دن کی اور اداسی زندگی بھر کی
یہی سب دیکھتا ہے اور کبیراؔ رونے لگتا ہے
سمجھتے ہی نہیں نادان کے دن کی ہے ملکیت
پرائے کھیتوں پہ اپنوں میں جھگڑا ہونے لگتا ہے
یہ دل بچ کر زمانے بھر سے چلنا چاہے ہے لیکن
جب اپنی راہ چلتا ہے اکیلا ہونے لگتا ہے
وسیم بریلوی
میں اپنے خواب سے بچھڑا نظر نہیں آتا
تو اس صدی میں اکیلا نظر نہیں آتا
عجب دباؤ ہے ان باہری ہواؤں کا
گھروں کا بوجھ بھی اٹھتا نظر نہیں آتا
میں تیری راہ سے ہٹنے کو ہٹ گیا لیکن
مجھے تو کوئی بھی رستہ نظر نہیں آتا
میں اک صدا پہ ہمیشہ کو گھر تو چھوڑ آیا
مگر پکارنے والا نظر نہیں آتا
دھواں بھرا ہے یہاں تو سبھی کی آنکھوں میں
کسی کو گھر مرا جلتا نظر نہیں آتا
غزل سرائی کا دعویٰ تو سب کرے ہیں وسیمؔ
مگر وہ میرؔ سا لہجہ نظر نہیں آتا
وسیم بریلوی