اس سے آگے تو بس لا مکاں رہ گیا
یہ سفر بھی مرا رائیگاں رہ گیا
ہو گئے اپنے جسموں سے بھی بے نیاز
اور پھر بھی کوئی درمیاں رہ گیا
راکھ پوروں سے جھڑتی گئی عمر کی
سانس کی نالیوں میں دھواں رہ گیا
اب تو رستہ بتانے پہ مامور ہوں
بے ہدف تیر تھا بے کماں رہ گیا
جب پلٹ ہی چلے ہو اے دیدہ ورو
مجھ کو بھی دیکھنا میں کہاں رہ گیا
مٹ گیا ہوں کسی اور کی قبر میں
میرا کتبہ کہیں بے نشاں رہ گیا
انجم سلیمی
مری اک اپنی دنیا تھی
کسی ہموار بستر پر
میں نیل و نیل اوندھے منہ پڑا ہوں
مُجھے درکار ہیں کچھ نیند کی ٹکیاں
مُجھے اک خواب میں واپس پلٹنا ہے
عجب اک خواب تھا وہ
مُجھے جس کے لئے سونا نہ پڑتا تھا
میں سارا سارا دن اس خواب کی دیوار سے لپٹا پڑا رہتا
جہاں ہر وقت گھیرے میں لئے رکھتی تھی
میری موت کی خوشبو
وہاں اک باغ تازہ تھا
جہاں میں منہ اندھیرے سیر کو جاتے ہوئے ڈرتا نہیں تھا
پری زادوں کی صحبت میں
مُجھے اس خواب سے باہر نکلنے کا خیال آتا نہیں تھا
اگرچہ واہموں کی زرد بیلوں نے مُجھے ڈھانپا ہوا تھا
مگر پھر بھی بہت کچھ دیکھنے کو تھا
مگر دیکھا نہ جاتا تھا
پھٹی رہتی تھیں آنکھیں
اور آنکھوں میں مرے چاروں طرف میں تھا
یہ کیسی خواب کی حیرت سرا تھی
جہاں چھوٹی بڑی ہر اک جسامت میں
مرے چاروں طرف میں تھا
بہت دن تک میں اپنے سکر میں
اپنی طرف اور اپنے ہی اطراف گھن چکر بنا پھرتا رہا
میں جیسے آپ ہی اپنے تعاقب میں
خود اپنی سمت بڑھتا آرہا تھا
میں خود کو چھو رہا تھا خود __
خود سے مل رہا تھا میں
عجب مستی کا عالم تھا ،قدم سیدھے نہ پڑتے تھے
زمیں لٹو کی صورت تھی مرے سر پر
عجب چکر تھا میرے چار جانب
میں اس چکر کی الٹی سمت گھوما
کچھ قدم چلتا رہا اور تیز تر چلنے کی کوشش میں
میں اپنے جذب میں سرشار
اس چکر سے ٹکرایا تو چکرایا ہوا
اسں خواب سے باہر نکل آیا
میں گھبرایا ہوا اوپر ہی اوپر گررہا تھا
مُجھے آواز دی میں نے
میں خود کو تھامنے کی کوشش ناکام میں آگے بڑھا
اور منہ کے بل آکر گرا اس آسماں کے نیلے اور ہموار بستر پر
سو اب اس آسماں کے نیلے اور ہموار بستر پر
میں نیل و نیل اوندھے منہ پڑا ہوں
نیلے آسماں کا فرش کالا ہورہا ہے
مرے سر پر کھڑی ہے شام
پھٹا جاتا ہے سر ۔۔۔۔۔
زمیں سردرد کی ٹکیہ نہیں ہے
جسے حلقوم میں رکھ کر نگلنے کے لئے دو گھونٹ کافی ہوں
سمندر چاہئیں مجھ کو ۔۔۔۔۔۔۔
سمندر اوک میں بھرتے نہیں ہیں
کوئی برتن نہیں ایسا
میں جس برتن میں اپنی پیاس بھر لوں
بس اک دل ہے
مگر دل بھی بھرا بیٹھا ہے خالی آسماں سے
مُجھے درکار ہیں کچھ نیند کی ٹکیاں
میں اپنے خواب میں واپس پلٹنا چاہتا ہوں
مری اک اپنی دنیا ہے
وہی دنیا ۔۔۔۔۔۔
جو دنیا مجھ سے خالی ہوگئی ہے
انجم سلیمی
ہوس کوئی برتن نہیں چھوڑتی
کیسے کیسے گناہوں کی لذت میں لت پت پڑی بےخبر سورہی ہے یہ بستی
مگر بھوک پہلو میں کروٹ پہ کروٹ بدلتے ہوئے جاگتی ہے
یہ بستی نہیں، بربریت بھرا ایسا برتن ہے جو بس چھلکنے کے نزدیک ہے
کیا کریں. ؟
کیا کریں؟ پیٹ کی بھوک ہوتی تو تازہ پھلوں کی مہک رس بھرے باغ میں کھینچ لاتی ہمیں
یہ کوئی اور ہی بھوک ہے جو مٹائے نہیں مٹ رہی
یہ کوئی اور ہی آگ ہے جو بجھائے نہیں بجھ رہی
آدھی شب جا چکی..
آدھی شب جا چکی.خواہشوں سے بھرے برتنوں کو کھلے چھوڑنا بھی مناسب نہیں
(اپنے جیسے کئی سونگھتے پھر رہے ہیں)
بھائی تم کو پتہ ہے اگر بھوک جاگی ہوئی ہو
تو پھر آنکھ میں نیند پڑتی کہاں ہے....!
سو تم ہی کہو کیا ارادہ ہے.؟؟
کیا مشورہ ہے..؟؟
ضبط ہوتا نہیں..
آگ بجھتی نہیں..
بھوک مٹتی نہیں
موت بھی صبر کی طرح آتی نہیں
کیا کریں..؟
کیا کریں؟ علتوں سے لبالب بھرا خاک داں کا پیالہ الٹ دیں؟
یا آب ملامت سے دھو کر کسی طاق توبہ میں محفوظ کر دیں..!
جبر کر لیں یا دیوار و در سے مٹا دیں خدائی غضب کے نوشتے..!
اشتہا بھی قیامت کی ہے..
آج کی شب کہاں بھوک اپنی مٹائیں..؟
چلو حضرت لوط کے گھر میں دعوت اڑائیں
سنا ہے وہاں ان کے ہاں آج مہمان ہیں دو فرشتے
معذرت اے بہت نیک دل محترم میزباں
یہ ہوس ہے....
ہوس کوئی برتن نہیں چھوڑتی........
انجم سلیمی
آدھی موت کا جنم
اپنے ادھورے وجود کے ساتھ
میں نے اپنی آدھی قبر ماں کی کوکھ میں بنائی
اور آدھی باپ کے دل میں
میں اپنی دونوں قبروں میں
تھوڑا تھوڑا جی رہا ہوں
تھوڑا تھوڑا مر رہا ہوں
مسیحا نے اپنے نسخے میں
میری تحلیل کی تجویز لکھی ہے
بابا نے میرے دوبارہ جنم کا مشورہ مانگا
اور ماں نے میرے بے نام کتبے کو آنسوؤں سے صاف کیا
تب
میرے ادھورے اور پورے جنم کا فیصلہ مجھ پر چھوڑ دیا گیا
دو قبروں میں بنے وجود کا تخمینہ لگاتے ہوئے
سوچتا ہوں
کیا کروں؟
مرنے کے لیے جی اٹھوں؟
یا جینے کے لیے ملتوی ہو جاؤں؟
پیارے رشتو!
میں ایک طرف دعاؤں کے کفن میں لپٹا پڑا ہوں
اور دوسری طرف
میرے سرہانے سورج مکھی کا پھول دھرا ہے
انجم سلیمی