انجم سلیمی

تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی

07 January 2026

12سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

اس سے آگے تو بس لا مکاں رہ گیا

اس سے آگے تو بس لا مکاں رہ گیا یہ سفر بھی مرا رائیگاں رہ گیا ہو گئے اپنے جسموں سے بھی بے نیاز اور پھر بھی کوئی درمیاں رہ گیا راکھ پوروں سے جھڑتی گئی عمر کی سانس کی نالیوں میں دھواں رہ گیا اب تو رستہ بتانے پہ مامور ہوں بے ہدف تیر تھا بے کماں رہ گیا جب پلٹ ہی چلے ہو اے دیدہ ورو مجھ کو بھی دیکھنا میں کہاں رہ گیا مٹ گیا ہوں کسی اور کی قبر میں میرا کتبہ کہیں بے نشاں رہ گیا

— انجم سلیمی

مری اک اپنی دنیا تھی

مری اک اپنی دنیا تھی کسی ہموار بستر پر میں نیل و نیل اوندھے منہ پڑا ہوں مُجھے درکار ہیں کچھ نیند کی ٹکیاں مُجھے اک خواب میں واپس پلٹنا ہے عجب اک خواب تھا وہ مُجھے جس کے لئے سونا نہ پڑتا تھا میں سارا سارا دن اس خواب کی دیوار سے لپٹا پڑا رہتا جہاں ہر وقت گھیرے میں لئے رکھتی تھی میری موت کی خوشبو وہاں اک باغ تازہ تھا جہاں میں منہ اندھیرے سیر کو جاتے ہوئے ڈرتا نہیں تھا پری زادوں کی صحبت میں مُجھے اس خواب سے باہر نکلنے کا خیال آتا نہیں تھا اگرچہ واہموں کی زرد بیلوں نے مُجھے ڈھانپا ہوا تھا مگر پھر بھی بہت کچھ دیکھنے کو تھا مگر دیکھا نہ جاتا تھا پھٹی رہتی تھیں آنکھیں اور آنکھوں میں مرے چاروں طرف میں تھا یہ کیسی خواب کی حیرت سرا تھی جہاں چھوٹی بڑی ہر اک جسامت میں مرے چاروں طرف میں تھا بہت دن تک میں اپنے سکر میں اپنی طرف اور اپنے ہی اطراف گھن چکر بنا پھرتا رہا میں جیسے آپ ہی اپنے تعاقب میں خود اپنی سمت بڑھتا آرہا تھا میں خود کو چھو رہا تھا خود __ خود سے مل رہا تھا میں عجب مستی کا عالم تھا ،قدم سیدھے نہ پڑتے تھے زمیں لٹو کی صورت تھی مرے سر پر عجب چکر تھا میرے چار جانب میں اس چکر کی الٹی سمت گھوما کچھ قدم چلتا رہا اور تیز تر چلنے کی کوشش میں میں اپنے جذب میں سرشار اس چکر سے ٹکرایا تو چکرایا ہوا اسں خواب سے باہر نکل آیا میں گھبرایا ہوا اوپر ہی اوپر گررہا تھا مُجھے آواز دی میں نے میں خود کو تھامنے کی کوشش ناکام میں آگے بڑھا اور منہ کے بل آکر گرا اس آسماں کے نیلے اور ہموار بستر پر سو اب اس آسماں کے نیلے اور ہموار بستر پر میں نیل و نیل اوندھے منہ پڑا ہوں نیلے آسماں کا فرش کالا ہورہا ہے مرے سر پر کھڑی ہے شام پھٹا جاتا ہے سر ۔۔۔۔۔ زمیں سردرد کی ٹکیہ نہیں ہے جسے حلقوم میں رکھ کر نگلنے کے لئے دو گھونٹ کافی ہوں سمندر چاہئیں مجھ کو ۔۔۔۔۔۔۔ سمندر اوک میں بھرتے نہیں ہیں کوئی برتن نہیں ایسا میں جس برتن میں اپنی پیاس بھر لوں بس اک دل ہے مگر دل بھی بھرا بیٹھا ہے خالی آسماں سے مُجھے درکار ہیں کچھ نیند کی ٹکیاں میں اپنے خواب میں واپس پلٹنا چاہتا ہوں مری اک اپنی دنیا ہے وہی دنیا ۔۔۔۔۔۔ جو دنیا مجھ سے خالی ہوگئی ہے

— انجم سلیمی

ہوس کوئی برتن نہیں چھوڑتی

ہوس کوئی برتن نہیں چھوڑتی کیسے کیسے گناہوں کی لذت میں لت پت پڑی بےخبر سورہی ہے یہ بستی مگر بھوک پہلو میں کروٹ پہ کروٹ بدلتے ہوئے جاگتی ہے یہ بستی نہیں، بربریت بھرا ایسا برتن ہے جو بس چھلکنے کے نزدیک ہے کیا کریں. ؟ کیا کریں؟ پیٹ کی بھوک ہوتی تو تازہ پھلوں کی مہک رس بھرے باغ میں کھینچ لاتی ہمیں یہ کوئی اور ہی بھوک ہے جو مٹائے نہیں مٹ رہی یہ کوئی اور ہی آگ ہے جو بجھائے نہیں بجھ رہی آدھی شب جا چکی.. آدھی شب جا چکی.خواہشوں سے بھرے برتنوں کو کھلے چھوڑنا بھی مناسب نہیں (اپنے جیسے کئی سونگھتے پھر رہے ہیں) بھائی تم کو پتہ ہے اگر بھوک جاگی ہوئی ہو تو پھر آنکھ میں نیند پڑتی کہاں ہے....! سو تم ہی کہو کیا ارادہ ہے.؟؟ کیا مشورہ ہے..؟؟ ضبط ہوتا نہیں.. آگ بجھتی نہیں.. بھوک مٹتی نہیں موت بھی صبر کی طرح آتی نہیں کیا کریں..؟ کیا کریں؟ علتوں سے لبالب بھرا خاک داں کا پیالہ الٹ دیں؟ یا آب ملامت سے دھو کر کسی طاق توبہ میں محفوظ کر دیں..! جبر کر لیں یا دیوار و در سے مٹا دیں خدائی غضب کے نوشتے..! اشتہا بھی قیامت کی ہے.. آج کی شب کہاں بھوک اپنی مٹائیں..؟ چلو حضرت لوط کے گھر میں دعوت اڑائیں سنا ہے وہاں ان کے ہاں آج مہمان ہیں دو فرشتے معذرت اے بہت نیک دل محترم میزباں یہ ہوس ہے.... ہوس کوئی برتن نہیں چھوڑتی........

— انجم سلیمی

آدھی موت کا جنم

آدھی موت کا جنم اپنے ادھورے وجود کے ساتھ میں نے اپنی آدھی قبر ماں کی کوکھ میں بنائی اور آدھی باپ کے دل میں میں اپنی دونوں قبروں میں تھوڑا تھوڑا جی رہا ہوں تھوڑا تھوڑا مر رہا ہوں مسیحا نے اپنے نسخے میں میری تحلیل کی تجویز لکھی ہے بابا نے میرے دوبارہ جنم کا مشورہ مانگا اور ماں نے میرے بے نام کتبے کو آنسوؤں سے صاف کیا تب میرے ادھورے اور پورے جنم کا فیصلہ مجھ پر چھوڑ دیا گیا دو قبروں میں بنے وجود کا تخمینہ لگاتے ہوئے سوچتا ہوں کیا کروں؟ مرنے کے لیے جی اٹھوں؟ یا جینے کے لیے ملتوی ہو جاؤں؟ پیارے رشتو! میں ایک طرف دعاؤں کے کفن میں لپٹا پڑا ہوں اور دوسری طرف میرے سرہانے سورج مکھی کا پھول دھرا ہے

— انجم سلیمی