جبین شوق اتنی تو شریک کار ہو جائے
جہاں سجدہ کروں میں آستان یار ہو جائے
صبا برہم اگر زلف دراز یار ہو جائے
قیامت کروٹیں لیتی ہوئی بیدار ہو جائے
بنا دو جس کو تم مجبور وہ مجبور بن جائے
جسے مختار تم کہہ دو وہی مختار ہو جائے
تجھے معلوم کیا اے خواب ہستی دیکھنے والے
وہی ہستی ہے ہستی جو نثار یار ہو جائے
جو ہو جائے یقیں آئیں گے وہ رسم عیادت کو
نہ ہو بیمار بھی کوئی تو وہ بیمار ہو جائے
گزر جائے حدود معرفت سے طالب جلوہ
جو بے پردہ کسی ساعت جمال یار ہو جائے
حکومت ہے جنوں پر ہست منشا تیرے وحشی کی
ابھی دیوانہ بن جائے ابھی ہشیار ہو جائے
فقط اتنی اطاعت چاہتی ہے رحمت یاری
کہ انساں کو گنہ کا اپنے بس اقرار ہو جائے
اسی کو کامیاب دید کہتے ہیں نظر والے
وہ عاشق جو ہلاک حسرت دیدار ہو جائے
نہ ہوگی ختم پھر بھی کشمکش شیخ و برہمن کی
اگر ہم رشتۂ تسبیح بھی زنار ہو جائے
سمجھ لینا وہیں عمر رواں کی آخری منزل
جہاں پر ختم افقرؔ جستجوئے یار ہو جائے
افقر موہانی
ترے جلوؤں میں گم ہو کر نشاں باقی نہیں رہتا
نشاں کیسا کہ ہستی کا گماں باقی نہیں رہتا
محبت میں نظام جسم و جاں باقی نہیں رہتا
یہ وہ منزل ہے جس میں کارواں باقی نہیں رہتا
کہیں صیاد کیا ہم اس چمن کے رہنے والے ہیں
بہاروں میں گلستاں تک جہاں باقی نہیں رہتا
مٹا دے اپنی ہستی امتحاں گاہ محبت میں
کہ اس کے باد کوئی امتحاں باقی نہیں رہتا
تجلی تیری جب ہوتی ہے محو جلوہ آرائی
تو پھر جلووں سے کوئی آستاں باقی نہیں رہتا
وہاں پہنچا دیا سوز غم پنہاں نے اب ہم کو
کہ غم منجملۂ عمر رواں باقی نہیں رہتا
اب اس منزل پہ لے آئی ہے میری بے خودی مجھ کو
جہاں فرق مکاں و لا مکاں باقی نہیں رہتا
مرے آئینۂ دل کی حقیقت پوچھنے والے
یہاں آ کر کوئی راز نہاں باقی نہیں رہتا
وہ دنیا ہو لحد ہو یا قیامت ہو کہ محشر ہو
غم اعمال کا رونا کہاں باقی نہیں رہتا
صدا آتی ہے راتوں کو یہی گور غریباں سے
چراغ سرحد منزل یہاں باقی نہیں رہتا
بھلا دیتی ہے تیری یاد یاد ماسوا دل سے
ترے ہوتے خیال دیگراں باقی نہیں رہتا
جبین شوق جھک بھی جا کہاں کا پاس رسوائی
کہ پھر قرب جبین و آستاں باقی نہیں رہتا
مجھے حیرت انہیں شکوہ جبین شوق سرگرداں
کہ سنگ در پہ سجدوں کا نشاں باقی نہیں رہتا
جہاں انسانیت کا خون ہو جذبات کی رو میں
وہاں معیار تخلیق جہاں باقی نہیں رہتا
شہیدان محبت کی عجب دنیا ہے اے افقرؔ
جہاں ذکر حیات جاوداں باقی نہیں رہتا
افقر موہانی
مِرے ہم سَفر
مِرے جسم و جاں کے ہر ایک رشتے سے معتبر، مرے ہم سَفر
تجھے یاد ہیں! تجھے یاد ہیں!
وہ جو قربتوں کے سُرور میں
تری آرزو کے حصار میں
مِری خواہشوں کے وفور میں
کئی ذائقے تھے گُھلے ہُوئے
درِ گلستاں سے بہار تک
وہ جو راستے تھے، کُھلے ہُوئے!
سرِ لوحِ جاں،
کسی اجنبی سی زبان کے
وہ جو خُوشنما سے حروف تھے!
وہ جو سرخوشی کا غبار سا تھا چہار سُو
جہاں ایک دُوجے کے رُوبرو
ہمیں اپنی رُوحوں میں پھیلتی کسی نغمگی کی خبر ملی
کِسی روشنی کی نظر ملی،
ہمیں روشنی کی نظر ملی تو جو ریزہ ریزہ سے عکس تھے
وہ بہم ہُوئے
وہ بہم ہُوئے تو پتہ چلا
کہ جو آگ سی ہے شرر فشاں مِری خاک میں
اُسی آگ کا
کوئی اَن بُجھا سا نشان ہے، تری خاک میں!
اسی خاکداں میں وہ خواب ہے
جسے شکل دینے کے واسطے
یہ جو شش جہات کا کھیل ہے یہ رواں ہُوا
اسی روشنی سے ’’مکاں‘‘ بنا‘ اسی روشنی سے ’’زماں‘‘ ہُوا
یہ جو ہر گُماں کا یقین ہے!
وہ جو ہر یقیں کا گمان تھا!
اسی داستاں کا بیان تھا!
امجد اسلام امجد