وقت کی سل دب گئی دیوار میں در آ گئے
چند موسم بیتنے کے بعد سب گھر آ گئے
میں بہت محتاط تھا لیکن ہوائے شوق سے
دل کا دروازہ کھلا اور خواب اندر آ گئے
میرے خوابوں میں نہ جانے کس کی لو شامل ہوئی
میری آنکھوں میں نہ جانے کس کے منظر آ گئے
سوچتے ہی سوچتے ہم پر کھلے لہروں کے بھید
دیکھتے ہی دیکھتے دریا پلٹ کر آ گئے
زندگی نے ہاتھ کھینچا سانس کی تفہیم سے
اور یوں الزام سارے موت کے سر آ گئے
ان کے رنگ سرخ پر حیران ہوں خود بھی جو اشک
آنکھ اندر کی طرف کھلتے ہی باہر آ گئے
جانے ان رستوں پہ کیا گزرے گی آزرؔ صبح تک
شام سے پہلے ہی ہم آوارگاں گھر آ گئے
دلاور علی آزر
آگ لگ جائے گی اک دن مری سرشاری کو
میں جو دیتا ہوں ہوا روح کی چنگاری کو
ورنہ یہ لوگ کہاں اپنی حدوں میں رہتے
میں نے معقول کیا حاشیہ برداری کو
یہ پرندے ہیں کہ درویش ہیں زندانوں کے
کچھ سمجھتے ہی نہیں امر گرفتاری کو
اب ہمیں زندگی کرنے میں سہولت دی جائے
کھینچ لائے ہیں یہاں تک تو گراں باری کو
ایک طوفان بلا خیز نے منظر بدلا
پیڑ تیار ہوئے رسم نگوں ساری کو
اس نے وہ زہر ہواؤں میں ملایا ہے کہ اب
کونپلیں سر نہ اٹھائیں گی نموداری کو
کون کھینچے گا مرے جسم کی زنجیر آزرؔ
کون آسان کرے گا مری دشواری کو
دلاور علی آزر
رہتا ہوں رات دن میں یوںہی مست شعر میں
مجھ کو لگانا پڑتی نہیں جست شعر میں
پیمانہ کوئی اور نہیں بن سکا ابھی
کرتا ہوں خود کو پیش سر دست شعر میں
ہونے کا اور نہ ہونے کا اس میں سراغ ہے
بکھرے پڑے ہیں یوں عدم و ہست شعر میں
اس کے لیے تو دل سے قصیدہ لکھوں گا میں
کیوں اس کا تذکرہ ہو کسی پست شعر میں
میری تراش ملتی نہیں ہے کسی سے بھی
رکھتا ہوں میں انوکھا در و بست شعر میں
ہم پست قامتوں کا وہاں ذکر کیا کہ جب
پیکان تیر میرؔ ہے پیوست شعر میں
کرنا ہے اپنا درد بھی آزرؔ بیاں تجھے
لانا ہے قافیہ بھی زبردست شعر میں
دلاور علی آزر
کرچی کرچی خواہشوں کا استعارہ خواب ہے
آسماں سے گر کے مجھ میں پارہ پارہ خواب ہے
نیند سے پیچھا چھڑا کر آ رہا ہوں میں مگر
میری آنکھوں کے تعاقب میں دوبارہ خواب ہے
خاک سے بنتی ہوئی تصویر ہے تمثیل کی
چاک پر رکھے ہوئے پیکر کا گارا خواب ہے
نیند کی کشتی اتر کر گم نہ ہو جائے کہیں
وہ سمندر ہوں کہ جس کا ہر کنارہ خواب ہے
خواب ہے پھولوں کا رنگا رنگ ہونا شاخ پر
خاک سے اٹھتی ہوئی خوشبو کی دھارا خواب ہے
جو تمہارے ساتھ میں نے رات کاٹی وہم تھی
جو تمہارے ساتھ میں نے دن گزارہ خواب ہے
جھانک لو آزرؔ اگر تصدیق کرنا ہے تمہیں
اور کیا ہو گا ان آنکھوں میں تمہارا خواب ہے
دلاور علی آزر
کب تک پھروں گا ہاتھ میں کاسہ اٹھا کے میں
جی چاہتا ہے بھاگ لوں دنیا اٹھا کے میں
ہوتی ہے نیند میں کہیں تشکیل خد و خال
اٹھتا ہوں اپنے خواب کا چہرہ اٹھا کے میں
بعد از صدائے کن ہوئی تقسیم ہست و بود
پھرتا تھا کائنات اکیلا اٹھا کے میں
کیوں کر نہ سہل ہو مجھے راہ دیار عشق
لایا ہوں دشت نجد کا نقشہ اٹھا کے میں
بڑھنے لگا تھا نشۂ تخلیق آب و خاک
وہ چاک اٹھا کے چل دیا کوزہ اٹھا کے میں
ہے ساعت وصال کے ملنے پہ منحصر
کس سمت بھاگتا ہوں یہ لمحہ اٹھا کے میں
قربت پسند دل کی طبیعت میں تھا تضاد
خوش ہو رہا ہوں ہجر کا صدمہ اٹھا میں
اب مجھ کو اہتمام سے کیجے سپرد خاک
اکتا چکا ہوں جسم کا ملبہ اٹھا کے میں
اچھا بھلا تو تھا تن تنہا جہان میں
پچھتا رہا ہوں خلق کا بیڑا اٹھا کے میں
آزرؔ مجھے مدینے سے ہجرت کا حکم تھا
صحرا میں لے کے آ گیا خیمہ اٹھا کے میں
دلاور علی آزر
یہ اک فقیر کا حجرہ ہے آ کے چلتے بنو
پڑی ہے طاق پہ دنیا اٹھا کے چلتے بنو
جہاں فانی ہے مت سوچنا سکونت کا
بس اپنے نام کا سکہ بٹھا کے چلتے بنو
اب اسے کے بعد شکاری کمان کھینچے گا
تم اس سے پہلے ذرا پھڑ پھڑا کے چلتے بنو
ہے بھیڑساقی کوثر کو دیکھنے کے لیے
سب اپنی پیاس بجھاو بجھا کے چلتے بنو
نہیں ہے فائدہ اب کوئی سینہ کوبی کا
بہانے آئے تھے جو خوں بہا کے چلتے بنو
ہوا ہوں تلخ تو باعث بھی لازمی ہے کوئی
میں تم سے اس لیے روٹھا ہوں تاکہ چلتے بنو
سجی رہے گی یونہی بزم حشر تک آزر
تم اپنے شعر سناو سنا کے چلتے بنو
دلاور علی آزر
بعد مدت اسے دیکھا لوگو۔۔
وہ ذرا بھی نہیں بدلا لوگو۔۔
خوش نہ تھا مجھ سے بچھڑ کر وہ بھی،
اس کے چہرے پر لکھا تھا لوگو۔۔
اس کی آنکھیں بھی کہے دیتی تھیں،
رات بھر وہ بھی نہ سویا لوگو۔۔
اجنبی بن کے جو گزرا ہے ابھی،
تھا کسی وقت میں اپنا لوگو۔۔
دوست تو خیر کوئی کس کا ہے؟
اس نے دشمن بھی نہ سمجھا لوگو۔۔
رات وہ درد میرے دل میں اٹھا،
صبح تک چین نہ آیا لوگو۔۔
پیاس صحراؤں کی پھر تیز ہوئی،
ابر پھر ٹوٹ کے برسا لوگو۔۔
پروین شاکر