جراتِ عشق ہے گر قابلِ تعذیر نہ دیکھ
جراتِ عشق ہے گر قابلِ تعذیر نہ دیکھ
تُو ، تَو بس رحم کئے جا مری تقصیر نہ دیکھ
ہاۓ زنجیر شکن یہ کششِ فصلِ بہار
رقص کر رقص ، گرانبارئ زنجیر نہ دیکھ
دیکھنا ہے تجھے ہر حال خواب ہستی
کیا نکلتی ہے اب اس خواب کی تعبیر نہ دیکھ
میں نے مانا کہ نہیں قابلِ بخشش ، لیکن
لطف پر اپنے نظر کر ، میری تقصیر نہ دیکھ
ان سے ملنے کی نئی پھر کوئی تدبیر نکال
ساتھ دینی نہیں گر عشق کی تقدیر نہ دیکھ
چاہتا کیا ہے دلِ زار تغافل سے ترے
نفسَ مضمون کو سمجھ شوخئ تحریر نہ دیکھ
بے پناہی تجلّی سے نہ گھبرا ہرگز
دل کو بے خوف بنا، حسن کی تسخیر نہ دیکھ
چھین لے دشتِ مشّیت سے بس لوح و قلم
ہو جفا تجھ سے اگر کاتبِ تقدیر نہ دیکھ
رنگ خاکوں میں بھرے جا یونہی خونِ دل سے
کون زیادہ ہے حسین، شوق کی تصویر نہ دیکھ
کفر توڑے جا خدایانِ ستم کے ساحر
عشق ہوتا ہے اگر جبر سے دلگیر نہ دیکھ
ساحر بھوپالی