سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
رشک مست شباب ہو تم تو
رشک مست شباب ہو تم تو خالق انقلاب ہو تم تو اب تمہارا جواب کیا ہوگا آپ اپنا جواب ہو تم تو کوئی یکتائے حسن ہے تو کیا عشق کا انتخاب ہو تم تو تم سے بڑھ کر شراب کیا ہوگی سر سے پا تک شراب ہو تم تو میرے افسانۂ محبت کا ایک رنگین باب ہو تم تو تم سے تسکین کی تمنا کیا باعث اضطراب ہو تم تو کسی پردے میں چھپ نہیں سکتے اس قدر بے حجاب ہو تم تو کاش اک دن وہ خود کہیں ساحرؔ عشق میں کامیاب ہو تم تو
مہرباں مجھ پہ کوئی ناز کا پالا ہوتا
مہرباں مجھ پہ کوئی ناز کا پالا ہوتا میرا پہلو بھی کسی چاند کا ہالا ہوتا پھر دکھاتا ترے جلووں کا فسوں گر تجھ کو میری آنکھوں سے کوئی دیکھنے والا ہوتا گر میسر نہ تھی دنیا میں مسرت تجھ کو زیست کو درد کے سانچے ہی میں ڈھالا ہوتا رنج و غم ایک ہیں اس کار گہ ہستی کے دل کی آنکھوں سے مگر دیکھنے والا ہوتا چن لیا مجھ کو کہ منشائے مشیت تھا یہی حسن کا تیرے کوئی چاہنے والا ہوتا حرف آ کر ہی رہا تیرے کرم پر ساقی گرنے والے کو کسی نے تو سنبھالا ہوتا راز دل کہہ کے انہیں کر دیا خودبیں ساحرؔ یوں محبت کو مصیبت میں نہ ڈالا ہوتا