ساحر بھوپالی

وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی

26 January 2026

12سپیکرز
295لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

رشک مست شباب ہو تم تو

رشک مست شباب ہو تم تو خالق انقلاب ہو تم تو اب تمہارا جواب کیا ہوگا آپ اپنا جواب ہو تم تو کوئی یکتائے حسن ہے تو کیا عشق کا انتخاب ہو تم تو تم سے بڑھ کر شراب کیا ہوگی سر سے پا تک شراب ہو تم تو میرے افسانۂ محبت کا ایک رنگین باب ہو تم تو تم سے تسکین کی تمنا کیا باعث اضطراب ہو تم تو کسی پردے میں چھپ نہیں سکتے اس قدر بے حجاب ہو تم تو کاش اک دن وہ خود کہیں ساحرؔ عشق میں کامیاب ہو تم تو

— ساحر بھوپالی

مہرباں مجھ پہ کوئی ناز کا پالا ہوتا

مہرباں مجھ پہ کوئی ناز کا پالا ہوتا میرا پہلو بھی کسی چاند کا ہالا ہوتا پھر دکھاتا ترے جلووں کا فسوں گر تجھ کو میری آنکھوں سے کوئی دیکھنے والا ہوتا گر میسر نہ تھی دنیا میں مسرت تجھ کو زیست کو درد کے سانچے ہی میں ڈھالا ہوتا رنج و غم ایک ہیں اس کار گہ ہستی کے دل کی آنکھوں سے مگر دیکھنے والا ہوتا چن لیا مجھ کو کہ منشائے مشیت تھا یہی حسن کا تیرے کوئی چاہنے والا ہوتا حرف آ کر ہی رہا تیرے کرم پر ساقی گرنے والے کو کسی نے تو سنبھالا ہوتا راز دل کہہ کے انہیں کر دیا خودبیں ساحرؔ یوں محبت کو مصیبت میں نہ ڈالا ہوتا

— ساحر بھوپالی