رشک مست شباب ہو تم تو
رشک مست شباب ہو تم تو
خالق انقلاب ہو تم تو
اب تمہارا جواب کیا ہوگا
آپ اپنا جواب ہو تم تو
کوئی یکتائے حسن ہے تو کیا
عشق کا انتخاب ہو تم تو
تم سے بڑھ کر شراب کیا ہوگی
سر سے پا تک شراب ہو تم تو
میرے افسانۂ محبت کا
ایک رنگین باب ہو تم تو
تم سے تسکین کی تمنا کیا
باعث اضطراب ہو تم تو
کسی پردے میں چھپ نہیں سکتے
اس قدر بے حجاب ہو تم تو
کاش اک دن وہ خود کہیں ساحرؔ
عشق میں کامیاب ہو تم تو
ساحر بھوپالی