حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھے
ہم اہل تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھے
اس بار بھی دنیا نے ہدف ہم کو بنایا
اس بار تو ہم شہہ کے مصاحب بھی نہیں تھے
بیچ آئے سر قریۂ زر جوہر پندار
جو دام ملے ایسے مناسب بھی نہیں تھے
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
لو دیتی ہوئی رات سخن کرتا ہوا دن
سب اس کے لیے جس سے مخاطب بھی نہیں تھے
افتخارعارف
ذرا سی دیر کو آئے تھے خواب آنکھوں میں
پھر اس کے بعد مسلسل عذاب آنکھوں میں
وہ جس کے نام کی نسبت سے روشنی تھا وجود
کھٹک رہا ہے وہی آفتاب آنکھوں میں
جنہیں متاع دل و جاں سمجھ رہے تھے ہم
وہ آئنے بھی ہوئے بے حجاب آنکھوں میں
عجب طرح کا ہے موسم کہ خاک اڑتی ہے
وہ دن بھی تھے کہ کھلے تھے گلاب آنکھوں میں
مرے غزال تری وحشتوں کی خیر کہ ہے
بہت دنوں سے بہت اضطراب آنکھوں میں
نہ جانے کیسی قیامت کا پیش خیمہ ہے
یہ الجھنیں تری بے انتساب آنکھوں میں
جواز کیا ہے مرے کم سخن بتا تو سہی
بہ نام خوش نگہی ہر جواب آنکھوں میں
افتخارعارف
جاہ و جلال, دام و درہم اور کتنی دیر
ریگِ رواں پہ نقش قدم اور کتنی دیر
اب اور کتنی دیر یہ دہشت، یہ ڈر، یہ خوف
گرد و غبار عہدِ ستم اور کتنی دیر
حلقہ بگوشوں، عرض گزاروں کے درمیان
یہ تمکنت، یہ زعمِ کرم اور کتنی دیر
پل بھر میں ہو رہے گا حسابِ نبود و بود
پیچ و خم و وجود و عدم اور کتنی دیر
دامن کے سارے چاک، گریباں کے سارے چاک
ہو بھی گئے بہم تو بہم اور کتنی دیر
شام آ رہی ہے، ڈوبتا سورج بتائے گا
تم اور کتنی دیر ہو، ہم اور کتنی دیر
افتخارعارف
سُن سانسوں کے سلطان پیا
ترے ہاتھ میں میری جان پیا
میں تیرے بن ویران پیا
تو میرا کُل جہان پیا
مری ہستی، مان، سمان بھی تو
مرا زھد، ذکر، وجدان بھی تو
مرا، کعبہ، تھل، مکران بھی تو
میرے سپنوں کا سلطان بھی تو
کبھی تیر ہوئی، تلوار ہوئی
ترے ہجر میں آ بیمار ہوئی
کب میں تیری سردار ہوئی
میں ضبط کی چیخ پکار ہوئی
مرا لوں لوں تجھے بلائے وے
مری جان وچھوڑا کھائے وے
ترا ہجر بڑا بے درد سجن
مری جان پہ بن بن آئے وے
مری ساری سکھیاں روٹھ گئیں
مری رو رو اکھیاں پھوٹ گئیں
تجھے ڈھونڈ تھکی نگری نگری
اب ساری آسیں ٹوٹ گئیں
کبھی میری عرضی مان پیا
میں چپ، گم صم، سنسان پیا
میں ازلوں سے نادان پیا
تو میرا کُل جہاں پیا
مری تھم تھم جاوے سانس پیا
مری آنکھ کو ساون راس پیا
تجھے سن سن دل میں ہوک اٹھے
ترا لہجہ بہت اداس پیا
ترے پیر کی خاک بنا ڈالوں
مرے تن پر جتنا ماس پیا
تُو ظاہر بھی، تُو باطن بھی
ترا ہر جانب احساس پیا
تری نگری کتنی دور سجن
مری جندڑی بہت اداس پیا
میں چاکر تیری ازلوں سے
تُو افضل، خاص الخاص پیا
مجھے سارے درد قبول سجن
مجھے تیری ہستی راس پیا
مِرا چین پیا، مرِی جان پیا
مِری جندڑی کا سلطان پیا
تِرے باہج حرام ہے جگ سارا
مجھے قسم رسول، قرآن پیا
تری راہ تکتے ہیں نین مرے
کبھی دل کا بن مہمان پیا
مِرا ہیرا، لوء لوء، موتی تُو
یاقوت مِرا، مرجان پیا
مِرا تیور تُو، مِرا کومل تُو
مِرا بھیرو، شُد کلیان پیا
مِرا نَحنُ اَقرَب بس اِک تُو
مِرا کعبہ، تھَل، مکران پیا
مِرا بھی تُو، مِرا مان بھی تُو
مرا زُھد، ذکر، وجدان پِیا
مرے پیروں میں زنجیر پِیا
اب نین بہاویں نیر پِیا
اے شاہ مرے اک بار تو آ
تو وارث، میں جاگیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا
بے نام ہوئی، گم نام ہوئی
کیوں چاہت کا انجام ہوئی
مرا مان رہے، مجھے نام ملے
اک بار کرو تحریر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا
کب زلف کے گنجل سلجھیں گے
کب نیناں تم سے الجھیں گے
کب تم ساون میں آؤ گے
کب بدلے گی تقدیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا
سب تیر جگر کے پار گئے
مجھے سیدے کھیڑے مار گئے
آ رانجھے آ کر تھام مجھے
تری گھائل ہو گئی ہیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا
میں جل جل ہجر میں راکھ ہوئی
میں کندن ہو کر خاک ہوئی
اب درشن دو، آزاد کرو
اب معاف کرو تقصیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پیا
زین شکیل