خوش گوار موسم میں
ان گنت تماشائی
اپنی اپنی ٹیموں کو
داد دینے آتے ہیں
اپنے اپنے پیاروں کا
حوصلہ بڑھاتے ہیں
میں الگ تھلگ سب سے
بارہویں کھلاڑی کو
ہوٹ کرتا رہتا ہوں
بارہواں کھلاڑی بھی
کیا عجب کھلاڑی ہے
کھیل ہوتا رہتا ہے
شور مچتا رہتا ہے
داد پڑتی رہتی ہے
اور وہ الگ سب سے
انتظار کرتا ہے
ایک ایسی ساعت کا
ایک ایسے لمحے کا
جس میں سانحہ ہو جائے
پھر وہ کھیلنے نکلے
تالیوں کے جھرمٹ میں
ایک جملۂ خوش کن
ایک نعرۂ تحسین
اس کے نام پر ہو جائے
سب کھلاڑیوں کے ساتھ
وہ بھی معتبر ہو جائے
پر یہ کم ہی ہوتا ہے
پھر بھی لوگ کہتے ہیں
کھیل سے کھلاڑی کا
عمر بھر کا رشتہ ہے
عمر بھر کا یہ رشتہ
چھوٹ بھی تو سکتا ہے
آخری وسل کے ساتھ
ڈوب جانے والا دل
ٹوٹ بھی تو سکتا ہے
تم بھی افتخار عارف
بارہویں کھلاڑی ہو
انتظار کرتے ہو
ایک ایسے لمحے کا
ایک ایسی ساعت کا
جس میں حادثہ ہو جائے
جس میں سانحہ ہو جائے
تم بھی افتخار عارف
تم بھی ڈوب جاؤ گے
تم بھی ٹوٹ جاؤ گے
افتخارعارف
جس روز ہمارا کوچ ہوگا
پھولوں کی دکانیں بند ہوں گی
شیریں سخنوں کے حرف دشنام
بے مہر زبانیں بند ہوں گی
پلکوں پہ نمی کا ذکر ہی کیا
یادوں کا سراغ تک نہ ہوگا
ہمواریٔ ہر نفس سلامت
دل پر کوئی داغ تک نہ ہوگا
پامالیٔ خواب کی کہانی
کہنے کو چراغ تک نہ ہوگا
معبود اس آخری سفر میں
تنہائی کو سرخ رو ہی رکھنا
جز تیرے نہیں کوئی نگہ دار
اس دن بھی خیال تو ہی رکھنا
جس آنکھ نے عمر بھر رلایا
اس آنکھ کو بے وضو ہی رکھنا
جس روز ہمارا کوچ ہوگا
پھولوں کی دکانیں بند ہوں گی
افتخارعارف
زمانے بھر کو اداس کر کے
خوشی کا ستیا ناس کر کے
میرے رقیبوں کو خاص کر کے
بہت ہی دوری سے پاس کر کے
تمہیں یہ لگتا تھا
جانے دیں گے ؟
سبھی کو جا کے ہماری باتیں
بتاؤ گے اور
بتانے دیں گے ؟
تم ہم سے ہٹ کر وصالِ ہجراں
مناؤ گے اور
منانے دیں گے ؟
میری نظم کو نیلام کر کے
کماؤ گے اور
کمانے دیں گے ؟
تو جاناں سن لو
اذیتوں کا ترانہ سن لو
کہ اب کوئی سا بھی حال دو تم
بھلے ہی دل سے نکال دو تم
کمال دو یا زوال دو تم
یا میری گندی مثال دو تم
میں پھر بھی جاناں ۔۔۔۔۔۔۔!
میں پھر بھی جاناں ۔۔۔
پڑا ہوا ہوں ، پڑا رہوں گا
گڑا ہوا ہوں ، گڑا رہوں گا
اب ہاتھ کاٹو یا پاؤں کاٹو
میں پھر بھی جاناں کھڑا رہوں گا
بتاؤں تم کو ؟
میں کیا کروں گا ؟
میں اب زخم کو زبان دوں گا
میں اب اذیت کو شان دوں گا
میں اب سنبھالوں گا ہجر والے
میں اب سبھی کو مکان دوں گا
میں اب بلاؤں گا سارے قاصد
میں اب جلاؤں گا سارے حاسد
میں اب تفرقے کو چیر کر پھر
میں اب مٹاؤں گا سارے فاسد
میں اب نکالوں گا سارا غصہ
میں اب اجاڑوں گا تیرا حصہ
میں اب اٹھاؤں گا سارے پردے
میں اب بتاؤں گا تیرا قصہ
مزید سُن لو۔۔۔
او نفرتوں کے یزید سن لو
میں اب نظم کا سہارا لوں گا
میں ہر ظلم کا کفارہ لوں گا
اگر تو جلتا ہے شاعری سے
تو یہ مزہ میں دوبارہ لوں گا
میں اتنی سختی سے کھو گیا ہوں
کہ اب سبھی کا میں ہو گیا ہوں
کوئی بھی مجھ سا نہی ملا جب
خود اپنے قدموں میں سو گیا ہوں
میں اب اذیت کا پیر ہوں جی
میں عاشقوں کا فقیر ہوں جی
کبھی میں حیدر کبھی علی ہوں
جو بھی ہوں اب اخیر ہوں جی...!
جون ایلیا
شب ہجر ہائی زخمی جگر ہائی
ہوا دے شوکاٹ اچ سیاہ کالی رات اچ
قدم لڑکھڑاون تے ٹھڈے وی آون
رستے دی سرنہیں فقط اتنا یاد اے
صحرا دے وچالے خاموشی آباد اے
اجڑی ہوئ بار اچ سنی ہک صدا ہائی
مسافر ہا کلا تے روندا ودا ہائی
اوہندے وین سن کے رونے نین میرے
ٹریوں اگیڑے زارا ہو کے نیڑے
میں پوچھیا راہگیرا راہ بھل گیا ایں
بندہ چون دسدایں کیوں رل گیاایں
ہتھ رکھ کے دل تے کیتوس اشارہ
آیوس ہلارا تے رنا دوبارہ
آکھے اہیو دل اے جیہڑا نت رویندا اے
سپاں دے سر تے وی راتیں ٹریندا اے
میں وت چا پچھیا کملا احساس ہائی
ایوں کھڑایا وتدایں یا کہیں دی تلاش ہائی
میریاں سن کے گلاں زرا ہوش آیوس
کھیسے چوں کڈھ کے چا فوٹو وکھیاوس
میں فوٹو نوں تیکا یقیں کوئی نہ آوئے
پیراں دے تھلے زمیں کوئی نہ آوے
میں رو رو کے آکھاں ایہا میری جان اے
تے اوہ پٹ پٹ کے آکھے اوہ میرے پہچان اے
میں آکھیا او کملا میں ایدھا ڈھوڈاوں آں
اوس آکھیا او پاگل میں وی اودے جاوں آں
دوہاں دا قاسم مندڑا نصیب ہا
یار میتھوں وی ودھ کے دیوانہ رقیب ہا
قاسم علی کاہلوانہ
قاسم کاہلوانہ