افتخارعارف

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)

30 November 2025

20سپیکرز
359لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

بارہواں کھلاڑی

خوش گوار موسم میں ان گنت تماشائی اپنی اپنی ٹیموں کو داد دینے آتے ہیں اپنے اپنے پیاروں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں میں الگ تھلگ سب سے بارہویں کھلاڑی کو ہوٹ کرتا رہتا ہوں بارہواں کھلاڑی بھی کیا عجب کھلاڑی ہے کھیل ہوتا رہتا ہے شور مچتا رہتا ہے داد پڑتی رہتی ہے اور وہ الگ سب سے انتظار کرتا ہے ایک ایسی ساعت کا ایک ایسے لمحے کا جس میں سانحہ ہو جائے پھر وہ کھیلنے نکلے تالیوں کے جھرمٹ میں ایک جملۂ خوش کن ایک نعرۂ تحسین اس کے نام پر ہو جائے سب کھلاڑیوں کے ساتھ وہ بھی معتبر ہو جائے پر یہ کم ہی ہوتا ہے پھر بھی لوگ کہتے ہیں کھیل سے کھلاڑی کا عمر بھر کا رشتہ ہے عمر بھر کا یہ رشتہ چھوٹ بھی تو سکتا ہے آخری وسل کے ساتھ ڈوب جانے والا دل ٹوٹ بھی تو سکتا ہے تم بھی افتخار عارف بارہویں کھلاڑی ہو انتظار کرتے ہو ایک ایسے لمحے کا ایک ایسی ساعت کا جس میں حادثہ ہو جائے جس میں سانحہ ہو جائے تم بھی افتخار عارف تم بھی ڈوب جاؤ گے تم بھی ٹوٹ جاؤ گے

— افتخارعارف

کوچ

جس روز ہمارا کوچ ہوگا پھولوں کی دکانیں بند ہوں گی شیریں سخنوں کے حرف دشنام بے مہر زبانیں بند ہوں گی پلکوں پہ نمی کا ذکر ہی کیا یادوں کا سراغ تک نہ ہوگا ہمواریٔ ہر نفس سلامت دل پر کوئی داغ تک نہ ہوگا پامالیٔ خواب کی کہانی کہنے کو چراغ تک نہ ہوگا معبود اس آخری سفر میں تنہائی کو سرخ رو ہی رکھنا جز تیرے نہیں کوئی نگہ دار اس دن بھی خیال تو ہی رکھنا جس آنکھ نے عمر بھر رلایا اس آنکھ کو بے وضو ہی رکھنا جس روز ہمارا کوچ ہوگا پھولوں کی دکانیں بند ہوں گی

— افتخارعارف

زمانے بھر کو اداس کر کے

زمانے بھر کو اداس کر کے خوشی کا ستیا ناس کر کے میرے رقیبوں کو خاص کر کے بہت ہی دوری سے پاس کر کے تمہیں یہ لگتا تھا جانے دیں گے ؟ سبھی کو جا کے ہماری باتیں بتاؤ گے اور بتانے دیں گے ؟ تم ہم سے ہٹ کر وصالِ ہجراں مناؤ گے اور منانے دیں گے ؟ میری نظم کو نیلام کر کے کماؤ گے اور کمانے دیں گے ؟ تو جاناں سن لو اذیتوں کا ترانہ سن لو کہ اب کوئی سا بھی حال دو تم بھلے ہی دل سے نکال دو تم کمال دو یا زوال دو تم یا میری گندی مثال دو تم میں پھر بھی جاناں ۔۔۔۔۔۔۔! میں پھر بھی جاناں ۔۔۔ پڑا ہوا ہوں ، پڑا رہوں گا گڑا ہوا ہوں ، گڑا رہوں گا اب ہاتھ کاٹو یا پاؤں کاٹو میں پھر بھی جاناں کھڑا رہوں گا بتاؤں تم کو ؟ میں کیا کروں گا ؟ میں اب زخم کو زبان دوں گا میں اب اذیت کو شان دوں گا میں اب سنبھالوں گا ہجر والے میں اب سبھی کو مکان دوں گا میں اب بلاؤں گا سارے قاصد میں اب جلاؤں گا سارے حاسد میں اب تفرقے کو چیر کر پھر میں اب مٹاؤں گا سارے فاسد میں اب نکالوں گا سارا غصہ میں اب اجاڑوں گا تیرا حصہ میں اب اٹھاؤں گا سارے پردے میں اب بتاؤں گا تیرا قصہ مزید سُن لو۔۔۔ او نفرتوں کے یزید سن لو میں اب نظم کا سہارا لوں گا میں ہر ظلم کا کفارہ لوں گا اگر تو جلتا ہے شاعری سے تو یہ مزہ میں دوبارہ لوں گا میں اتنی سختی سے کھو گیا ہوں کہ اب سبھی کا میں ہو گیا ہوں کوئی بھی مجھ سا نہی ملا جب خود اپنے قدموں میں سو گیا ہوں میں اب اذیت کا پیر ہوں جی میں عاشقوں کا فقیر ہوں جی کبھی میں حیدر کبھی علی ہوں جو بھی ہوں اب اخیر ہوں جی...!

— جون ایلیا

دیوانہ رقیب

شب ہجر ہائی زخمی جگر ہائی ہوا دے شوکاٹ اچ سیاہ کالی رات اچ قدم لڑکھڑاون تے ٹھڈے وی آون رستے دی سرنہیں فقط اتنا یاد اے صحرا دے وچالے خاموشی آباد اے اجڑی ہوئ بار اچ سنی ہک صدا ہائی مسافر ہا کلا تے روندا ودا ہائی اوہندے وین سن کے رونے نین میرے ٹریوں اگیڑے زارا ہو کے نیڑے میں پوچھیا راہگیرا راہ بھل گیا ایں بندہ چون دسدایں کیوں رل گیاایں ہتھ رکھ کے دل تے کیتوس اشارہ آیوس ہلارا تے رنا دوبارہ آکھے اہیو دل اے جیہڑا نت رویندا اے سپاں دے سر تے وی راتیں ٹریندا اے میں وت چا پچھیا کملا احساس ہائی ایوں کھڑایا وتدایں یا کہیں دی تلاش ہائی میریاں سن کے گلاں زرا ہوش آیوس کھیسے چوں کڈھ کے چا فوٹو وکھیاوس میں فوٹو نوں تیکا یقیں کوئی نہ آوئے پیراں دے تھلے زمیں کوئی نہ آوے میں رو رو کے آکھاں ایہا میری جان اے تے اوہ پٹ پٹ کے آکھے اوہ میرے پہچان اے میں آکھیا او کملا میں ایدھا ڈھوڈاوں آں اوس آکھیا او پاگل میں وی اودے جاوں آں دوہاں دا قاسم مندڑا نصیب ہا یار میتھوں وی ودھ کے دیوانہ رقیب ہا قاسم علی کاہلوانہ

— قاسم کاہلوانہ