خدائے ہر دوجہاں نے جب آدمی کو پہلے پہل سزا دی
بہشت سے جب اسے نکالا
تو اس کو بخشا گیا یہ ساتھی
یہ ایسا ساتھی ہے جو ہمیشہ ہی آدمی کے قریں رہا ہے
تمام ادوار چھان ڈالو
روایتوں میں حکایتوں میں
ازل سے تاریخ کہہ رہی ہے
کہ آدمی کی جبیں ہمیشہ ندامتوں سے عرق رہی ہے
وہ وقت جب سے کہ آدمی نے
خدا کی جنت میں شجر ممنوعہ چکھ لیا
اور
سرکشی کی
تبھی سے اس پھل کا یہ کسیلا ذائقہ
آدمی کے کام و دہن میں ہر پھر کے آ رہا ہے
مگر ندامت کے تلخ سے ذائقے سے پہلے گناہ کی بے پناہ لذت
فہمیدہ ریاض
اس گلی کے موڑ پر اک عزیز دوست نے
میرے اشک پونچھ کر
آج مجھ سے یہ کہا
یوں نہ دل جلاؤ تم
لوٹ مار کا ہے راج
جل رہا ہے کل سماج
یہ فضول راگنی
مجھ کو مت سناؤ تم
بورژوا سماج ہے
لوٹ مار چوریاں اس کا وصف خاص ہے
اس کو مت بھلاؤ تم
انقلاب آئے گا
اس سے لو لگاؤ تم
ہو سکے تو آج کل مال کچھ بناؤ تم
کھائی سے نکلنے کی آرزو سے پیشتر
دیکھ لو ذرا جو ہے دوسری طرف ہے گڑھا ہے
آج ہیں جو حکمراں ان سے بڑھ کے خوفناک ان کے سب رقیب ہیں
دندنا رہے ہیں جو لے کے ہاتھ میں چھرا
شکر کا مقام ہے
میری مسخ لاش آپ کو کہیں ملی نہیں
اک گلی کے موڑ پر
میں نے پوچھا واقعی
سن کے مسکرا دیا کتنی دیر ہو گئی
لیجئے میں اب چلا اس کے بعد اب کیا ہوا
کھڑکھڑائیں ہڈیاں
اس گلی کے موڑ سے وہ کہیں چلا گیا
فہمیدہ ریاض
قطرہ قطرہ دل میں آنسو گرتے ہیں
اک آنسو اس شخص کا جو بیگانہ ہے
اک آنسو اس نام کا جو ہم لے نہ سکے
اک آنسو اس دعا کا جو پوری نہ ہوئی
ایک فضول سی بات کہ جو بے سود کہی
آنسو میرا خواب میں جس سے گھبراؤں
آنسو میری مراد جسے میں بھلاؤں
اک آنسو اس چہرے کا جو یاد رہے
آنکھوں کے رستے جو دل میں اتر جائے
اک آنسو اس ٹھہرے ٹھہرے لہجے کا
اک آنسو اس وہم کا ذہن میں جو آیا
اک آنسو اس جھوٹ کا جو اوروں سے کہا
پھیکی ہنسی سے کیسے قصہ ختم کیا
لمحہ لمحہ رات گزرتی جاتی ہے
قطرہ قطرہ دل میں آنسو گرتے ہیں
فہمیدہ ریاض
میں تو کہتا تھا
میری پرستش نہ کر
میری عُریاں ہتھیلی پہ پلکوں کے اندر چھُپی خواہشوں کے ستارے نہ چُن
میری قَسموں میں لپٹے ہوئے وصل وعدوں سے
اپنی حَسیں ریشمی چاہتوں کے کنارے نہ بُن
میرے لفظوں پہ مَت جا
کہ نا مُعتبر لفظ فصلِ خزاں کی ہوَا میں بکھرتے ہوئے زرد پتّوں
کی آواز ہیں
میرے پاؤں کے تلوؤں پہ یاقوت و مرجاں سے ہونٹوں
کے موتی نچھاور نہ کر
میں تو کہتا تھا
جذبوں کی مُنہ زور آندھی کے رستے میں اتنے دیے مت جَلا
اپنی خواہش کے تپتے ہوُئے دشت میں
بے جہت رقص کرتے بگولوں کی خالی ہتھیلی پہ
شفّاف خوابوں کے ریشم میں لپٹے ہوئے جُگنوؤں کے
گُہر مت سجا
مت سَجا سازشی سوُرجوں کے مقابِل سُخن آئینے
میں تو کہتا تھا
چاہت کی ساری لکیریں
سبھی ذائقے
سب رُتیں
دُھوپ چھاؤں کے اندھے ادُھورے سفر سے اُبھرتی ہوُئی
گرد کی تہہ میں پوشیدہ منظر کے
بنتے بگڑتے خد و خال کا
استعارہ سمجھ
گردشِ روزوشب کا اشارہ سمجھ
دیکھ اپنی جوانی کی جلتی ہوئی دوپہر میں کوئی خواب دیکھا نہ کر
میرے ہاتھوں کی یخ بستگی پہ سرِ شام
سوچا نہ کر
مجھ سے اِتنی عقیدت بھی اچھی نہیں
میرے نزدیک آ
میرے تن میں اُتر
میری بانھوں کے آنگن میں بکھری ہوئی دُھوپ میں بن سنور
مجھ سے کیسا حذَر؟
مجھ کو ’’ اپنا ‘‘ سمجھ
میرے نزدیک اپنائیت سے بڑا کوئی رشتہ نہیں
میری چاہت کو کوئی تقاضا سمجھ
میرے اندر کا انساں فرشتہ نہیں
اور اب
تیرے رُوٹھے ہوُئے لفظ
گجروں کے سُوکھے ہوُئے پھول
آنکھوں میں بکھرے ہوئے آنسوؤں کے گُہر
تیرے معصوُم جذبوں کے سچ کی مُسلسل گواہی مگر
میں تو کہتا تھا میری پرستش نہ کر
میں تو کہتا تھا
میری پرستش نہ کر
محسن نقوی
پُنل اب لوٹنا کیسا؟
محبت خانزادے کے حرم میں گڑ گئی اب تو
میرے ہر خواب پہ مٹی کی چادر چڑھ گئی اب تو
میرے عشوے میرے غمزے ادائیں مر گئیں اب تو
صدائیں مر گئیں اب تو
پُنل اب لوٹنا کیسا؟
پُنل صحرا گواہی ہے
یہ سانسوں کی طنابوں پر تنا خیمہ گواہی ہے
ہتھیلی کی دراڑوں پر چھپے آنسو گواہی ہیں
کہ میں نے انتہا تک انتہا سے تم کو مانگا ہے
شہر بھنبھور کے محلوں کے خستہ غریبوں سے
سڑک پر بِچھ گئے دعا کرتے فقیروں سے
یتیموں سے ضعیفوں سے، دلوں کے بادشاہوں سے
نیازوں میں، دعاؤں میں صداؤں میں پکارا ہے
اماوس رات میں اُٹھ کر خلاؤں میں پکارا ہے
پُنل تم کیوں نہیں آئے؟
پرانی خانقاہوں میں، شہر کے آستانوں پر
بازاروں مسجدوں میں، مرقدوں میں دیکھ لو جا کر
کہیں تعویز ہیں کہیں دھاگے بندہے ہوں گے
کہیں دیوار پہ کچھ خون کے چھینٹے پڑے ہوں گے
کہیں ماتھے گڑے ہوں گے، کہیں گھٹنے چھپے ہوں گے
پُنل منظر دُہائی ہے
کہ میں نے بے نشانی سے نشاں تک تم کو مانگا ہے
تمہارے کیچ کے رستے پہ میں ہر شام روتی تھی
ہر اک راہگیر کے پیروں کو پکڑ کر التجا کرتی
کہ میرا خان لوٹا دو
میرا ایمان لوٹا دو
کوئی ہنستا، کوئی روتا، کوئی سِکہ بڑھا دیتا
کوئی تمہارے رستے کی مسافت کا پتہ دیتا
وہ سارے لوگ جھوٹے تھے
سبھی پیمان کچے تھے
پُنل تم ایک سچے تھے
پُنل تم کیوں نہیں آئے؟
پُنل بھنبھور کی گلیاں
وہ کچی اینٹ کی نلیاں
جنہوں نے خادماؤں کا کبھی چہرہ نہیں دیکھا
انہوں نے ایک شہزادی کا نوحہ سن لیا آخر
بھڑک جاتی ہیں وہ ایسے اماوس رات میں جیسے
کسی خوابوں میں لپٹی ماں کا بچہ جاگ جاتا ہے
وہ سرگوشی میں کہتی ہیں کہ؛ دیکھو
بھوک سے اونچا بھی کوئی روگ ہے دل کا
سنا کرتے تھے کہ یہ کام ہے بس پیرِ کامل کا
کہ وہ الفت کو مٹی سے بڑا اعجاز کر ڈالے
یہ کس گندی نے افشاں زندگی کے راز کر ڈالے
پُنل میں گندی مندی ہو گئی میں یار کی بندی
سو میری ذات سے پاکیزگی کا کھوجنا کیسا
پُنل اب لوٹنا کیسا؟
خدا کے واسطے مت دو
خدا کے پاس بیٹھی ہو
رنگین خانۂ کرب و بلا کے پاس بیٹھی ہو
جہاں سے روشنی جیسی دعائيں لوٹ آتی ہیں
زمیں سنگلاخ ویرانہ
جہاں پر جانے والے لوٹ کر آتے نہیں
لیکن صدائیں لوٹ آتی ہیں
پُنل آواز مت دینا
کہ میں اب آواز کی دنیا سے آگے کی کہانی ہوں
میں ان شہروں کی رانی ہوں
جہاں میں سوچ کے بستر پہ زلفیں کھول سکتی ہوں
جہاں پر وقت ساکت ہے نگاہِ یار کی صورت
جہاں پر عاشقوں کے جسم سے انوار کی صورت
محبت پھوٹ کر اک بے کراں نالے میں رقصاں ہے
مگر آواز مت دینا
کہ ہر آواز صدمہ ہے
پُنل آواز مت دینا
کہاں اس لامکاں نگری میں ماتم کرنے آئے ہو
پُنل واپس چلے جاؤ
یہاں کوئی نہیں رہتا سوائے ریگِ بسمل کے
پُنل یہ ریت کے ذرّے
یہ خواہش کے فرشتے ہیں
انہیں کیا علم کہ وہ پار تیرے کیچ کے جیسا
یہ اونٹوں کی قطاریں
میرے اشکوں کی قطاریں ہیں
جو میرے باغ کے صحرا کے ٹیلے سے گزرتی ہیں
تو میرے ذہن کے سُوکھے کنويں
تک رینگ جاتی ہیں
انہیں کیا علم کہ وہ سُوکھا کنواں بھنبھور کے جیسا
یہ ریت کے ٹیلے یہ اعلامِ حقیقت ہیں
نہ جانے کتنے احراموں تلے محبت ہے
کہاں اس لامکاں نگری میں ماتم کرنے آئے ہو
تمہارے اشک اور نوحے یہاں کچھ کر نہیں سکتے
انہیں کہنا جو کہتے تھے فسانے مر نہیں سکتے
انہیں کہنا کہ وہ سسی جو آدم خانزادی تھی
جسے دل نے صدا دی تھی جو اشکوں کی منادی تھی
وہ سسی ہجر کی رسی سے لٹکی مر گئی کب سے
طلاقیں لے کے پردیسی سہاگن گھر گئی کب سے
یہاں کوئی نہیں رہتا سوائے ریگِ بسمل کے
پُنل واپس چلے جاؤ
عمران فیروز
اردو شعرا