کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے
وہ تم کو خوف دلائیں گے
جو ہے وہ بھی کھو سکتا ہے
اس راہ میں رہزن ہیں اتنے
کچھ اور یہاں ہو سکتا ہے
کچھ اور تو اکثر ہوتا ہے
پر تم جس لمحے میں زندہ ہو
یہ لمحہ تم سے زندہ ہے
یہ وقت نہیں پھر آئے گا
تم اپنی کرنی کر گزرو
جو ہوگا دیکھا جائے گا
فہمیدہ ریاض
لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذرا
چھو کے میرا بدن
اپنے بچے کے دل کا دھڑکنا سنو
ناف کے اس طرف
اس کی جنبش کو محسوس کرتے ہو تم
بس یہیں چھوڑ دو
تھوڑی دیر اور اس ہاتھ کو میرے ٹھنڈے بدن پر یہیں چھوڑ دو
میرے بے کل نفس کو قرار آ گیا
میرے عیسیٰ مرے درد کے چارہ گر
میرا ہر موئے تن
اس ہتھیلی سے تسکین پانے لگا
اس ہتھیلی کے نیچے مرا لال کروٹ سی لینے لگا
انگلیوں سے بدن اس کا پہچان لو
تم اسے جان لو
چومنے دو مجھے اپنی یہ انگلیاں
ان کی ہر پور کو چومنے دو مجھے
ناخنوں کو لبوں سے لگا لوں ذرا
پھول لاتی ہوئی یہ ہری انگلیاں
میری آنکھوں سے آنسو ابلتے ہوئے
ان سے سینچوں گی میں
پھول لاتی ہوئی انگلیوں کی جڑیں چومنے دو مجھے
اپنے بال اپنے ماتھے کا چاند اپنے لب
یہ چمکتی ہوئی کالی آنکھیں
مرے کانپتے ہونٹ میری چھلکتی ہوئی آنکھ کو دیکھ کر کتنی حیران ہیں
تم کو معلوم کیا تم کو معلوم کیا
تم نے جانے مجھے کیا سے کیا کر دیا
میرے اندر اندھیرے کا آسیب تھا
یا کراں تا کراں ایک انمٹ خلا
یوں ہی پھرتی تھی میں
زیست کے ذائقے کو ترستی ہوئی
دل میں آنسو بھرے سب پہ ہنستی ہوئی
تم نے اندر مرا اس طرح بھر دیا
پھوٹتی ہے مرے جسم سے روشنی
سب مقدس کتابیں جو نازل ہوئیں
سب پیمبر جو اب تک اتارے گئے
سب فرشتے کہ ہیں بادلوں سے پرے
رنگ سنگیت سر پھول کلیاں شجر
صبح دم پیڑ کی جھومتی ڈالیاں
ان کے مفہوم جو بھی بتائے گئے
خاک پر بسنے والے بشر کو مسرت کے جتنے بھی نغمے سنائے گئے
سب رشی سب منی انبیا اولیا
خیر کے دیوتا حسن نیکی خدا
آج سب پر مجھے
اعتبار آ گیا اعتبار آ گیا
فہمیدہ ریاض
گھر کے قصے بیان ہوتے رہے
اپنی مجبوریوں پہ روتے رہے
جان کی دی قسم کہ شاد رہیں
التجا کی کہ بھول جائیں ہمیں
تھام کر یاتھ ان سے قول لیا
بیاہ کر لیں گے وہ کہیں اپنا
فہمیدہ ریاض
دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ
حیرت ہے مجھے آج کدھر بھول پڑے وہ
بُھولا نہیں دل ہجر کے لمحات کڑے وہ
راتیں تو بڑی تھیں ہی مگر دن بھی بڑے وہ
کیوں جان پہ بن آئی ہے بِگڑا ہے اگر وہ
اُس کی تو یہ عادت کے ہواؤں سے لڑے وہ
الفاظ تھے اُس کے کہ بہاروں کے پیامات
خوشبو سی برسنے لگی یوں پھول جھڑے وہ
طوفاں ہے تو کیا غم،مجھے آواز تو دیجے
کیا بُھول گئے آپ مرے کچے گھڑے وہ
پروین شاکر
جذبوں کو زبان دے رہا ہوں
میں وقت کو دان دے رہا ہوں
موسم نے شجر پہ لکھ دیا کیا
ہر حرف پہ جان دے رہا ہوں
یوں ہے نم خاک بن کے جیسے
فصلوں کو اٹھان دے رہا ہوں
جو جو بھی خمیدہ سر ہیں ان کے
ہاتھوں میں کمان دے رہا ہوں
کیسی حد جبر ہے یہ جس پر
بے وقت اذان دے رہا ہوں
اوقات مری یہی ہے ماجدؔ
ہاری ہوئی لگان دے رہا ہوں
ماجد صدیقی
اردو شعرا