فہمیدہ ریاض

یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض

15 December 2025

18سپیکرز
311لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

کب تک

کب تک مجھ سے پیار کرو گے کب تک؟ جب تک میرے رحم سے بچے کی تخلیق کا خون بہے گا جب تک میرا رنگ ہے تازہ جب تک میرا انگ تنا ہے پر اس کے آگے بھی تو کچھ ہے وہ سب کیا ہے کسے پتہ ہے وہیں کی ایک مسافر میں بھی انجانے کا شوق بڑا ہے پر تم میرے ساتھ نہ ہوگے تب تک

— فہمیدہ ریاض

اشکِ ناداں سے کہو بعد میں پچھتائیں گے

اشکِ ناداں سے کہو بعد میں پچھتائیں گے آپ گر کر مری آنکھوں سے کدھر جائیں گے اپنے لفظوں کو تکلم سے گرا کر جاناں اپنے لہجے کی تھکاوٹ میں بکھر جائیں گے اِک ترا گھر تھا مری حدِ مسافت لیکن اب یہ سوچا ہے کہ ہم حد سے گزر جائیں گے اپنے افکار جلا ڈالیں گے کاغذ کاغذ سوچ مر جائے گی تو ہم آپ بھی مر جائیں گے اس سے پہلے کہ جدائی کی خبر تم سے ملے ہم نے سوچا ہے کہ ہم تم سے بچھڑ جائیں گے

— خلیل الرحمن قمر

اس نئے غم سے کنارہ بھی تو ہو سکتا ہے

اس نئے غم سے کنارہ بھی تو ہو سکتا ہے عشق پھر ہم کو دوبارہ بھی تو ہو سکتا ہے آپ اندازہ لگاتے رہیں بس جگنو کا مری مٹھی میں ستارہ بھی تو ہو سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ یہ جان لٹا دی جائے اس کی یادوں پہ گزارا بھی تو ہو سکتا ہے دل کی بستی سے سر شام جو اٹھا ہے دھواں اچھے موسم کا اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے آپ کو ہم سے محبت بھی تو ہو سکتی ہے اور محبت میں خسارہ بھی تو سکتا ہے یہ جو پھیلا ہے فلک تک شب ہجراں کا غبار مری وحشت کا نظارہ بھی تو ہو سکتا ہے ناظر وحید

— اردو شعرا

پہروں قمر کو دیکھے گا وہ شخص میرے بعد

پہروں قمر کو دیکھے گا وہ شخص میرے بعد سب سے مرا ہی پوچھے گا وہ شخص میرے بعد ویرانیاں رہیں گی مرے گھر کے صحن میں کس کو گلے لگائے گا وہ شخص میرے بعد پہروں اکیلا بیٹھے گا وہ شخص میرے بعد کانپیں گے اس کے ہاتھ کئی بار دیکھنا اشکو کو جب بھی پونچھے گا وہ شخص میرے بعد تربت پہ میری آئے گا وہ دن میں بھی بارہا شب بھی وہیں بتائے گا وہ شخص میرے بعد دھوئے گا میری قبر کو ہر شام، اور پھر سرہانے پھول رکھے گا وہ شخص میرے بعد پوچھا نہ زندگی میں کبھی ایک بار بھی برسوں قمر کا پوچھے گا وہ شخص میرے بعد

— راجہ اکرام قمر