بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گا
میں سورج بن کے اک دن اپنی پیشانی سے نکلوں گا
نظر آ جاؤں گا میں آنسوؤں میں جب بھی روؤگے
مجھے مٹی کیا تم نے تو میں پانی سے نکلوں گا
تم آنکھوں سے مجھے جاں کے سفر کی مت اجازت دو
اگر اترا لہو میں پھر نہ آسانی سے نکلوں گا
میں ایسا خوبصورت رنگ ہوں دیوار کا اپنی
اگر نکلا تو گھر والوں کی نادانی سے نکلوں گا
ضمیر وقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت
زمانہ کیا سمجھتا ہے کہ آسانی سے نکلوں گا
یہی اک شے ہے جو تنہا کبھی ہونے نہیں دیتی
ظفرؔ مر جاؤں گا جس دن پریشانی سے نکلوں گا
ظفرگورکھپوری
شہر میں دل کے سروکار کہیں چلتے ہیں
دشت اپنوں کو سمجھتا ہے‘ وہیں چلتے ہیں
خود جہاں اپنی حرارت سے فروزاں ہوں چراغ
وہاں احکام ہواؤں کے نہیں چلتے ہیں
بوجھ جو سانسوں پہ ہے‘ کم نہیں ہونے والا
شہر میں حبس زیادہ ہے‘ کہیں چلتے ہیں
میں وہاں راہ کی‘ رفتار کی کیا بحث کروں
اپنے پیروں سے جہاں لوگ نہیں چلتے ہیں
پار کر جاؤں گا اک روز یہ صحرائے گماں
میں نہیں چلتا‘ مرے پائے یقیں چلتے ہیں
زندگی! تجھ سے زیادہ وہ سمجھتے ہیں تجھے
رکھ کے دن رات جو چھاتی پہ زمیں‘ چلتے ہیں
راستے اچھے‘ ہوا اچھی‘ سفر بھی دلچسپ
پہلے قدموں پہ تو آ جائے یقیں‘ چلتے ہیں
ظفرگورکھپوری
نظر آتا نہیں لیکن اشارہ کر رہا ہے
کوئی تو ہے جو میرا کام سارا کر رہا ہے
اس آبادی میں کچھ ہوں گے جنہیں پیاری ہے دنیا
بڑا حصہ تو مجبوراً گوارا کر رہا ہے
نہ پوچھو دل کی‘ آنسو خشک ہیں اور درد کم کم
یہ دیوانہ کسی صورت گزارا کر رہا ہے
زمیں کی کوکھ چھلنی کر رہا ہے رات دن جو
وہ اپنے آپ کو بھی پارہ پارہ کر رہا ہے
مژہ سے ٹوٹ کر گرنے کا منظر سب نے دیکھا
خبر بھی ہے جو مٹی میں ستارہ کر رہا ہے
مجھے یوں بے سہارا کر کے اس کو کیا ملے گا
مگر کچھ سوچ کر ہی بے سہارا کر رہا ہے
کڑی ہے دھوپ‘ رک جاؤ ذرا آموں کے نیچے
ظفر صاحب! تمھیں کوئی اشارہ کر رہا ہے
ظفرگورکھپوری
خواب ٹوٹے اپنے تھوڑا اور رونے دو
ہجر میں ہیں غم پرانے تو ہونے دو
غم ہی غم ہیں ہجر کا موسم ٹلنے دو
عشق کی گرمی ہے یخ بستہ گھلنے دو
اگ دبی ہے صدیوں سے ضیاء کی یہ جو
نور ہے یہ کشف کا پردے ہٹنے دو
ہے سفر دیوانگی رب کے عشق کا
جنگلوں میں زندگی پنہا ں کر نے دو
دل کے صحرا میں چھپی ہے جو روشنی
سرخی دل کو تھوڑا اور سنساں چلنے دو
دشتِ تنہائی میں یادوں کی آہٹیں
گونجتی ہیں تم ابھی شدت بڑھنے دو
زمانے کی بے رحمی اور دھوپ بھی
زندگی کچھ پل تپش میں اور جلنے دو
ان گنت موجوں میں اتری ہے زندگی
لہریں ہیں ساحل پہ کچھ پل تو جینے دو
ہم سفر جب ساتھ چلنے لگ پڑیں
ہاتھ پکڑو راز دل تو کہنے دو
راستے گرچہ نہیں ہیں آساں یہ
رابطے مشکل نہیں یہ ہونے دو
چاہتوں کے رنگ سارے بکھر گئے
الفتوں کی داستانیں تو لکھنے دو
گھپ اندھیرا ہے یوں ایمن اس زیست میں
روشنی آنے دو رستہ تو بننے دو
ایمن ساغر
ساحرہ!
بھوک کتنی بھیانک ہوا کرتی ہے
میری معصوم اے صندلیں، باؤلی ساحرہ!
ضبط کی کوئی حد بھی اگر ہو تو شاید
اسے موت کہنا بجا ہے
بھلا کس لیے بھوک کی موت مرتے ہوئے لوگ،
دنیا میں موجود ان نعمتوں کو مقدر میں لکھوا کے لاتے نہیں؟
خودکشی جن کو آسان لگتی ہو
اور زندگی کی مسافت کٹھن
اور سنا ہے مقدر تو خود اپنی مرضی کا لکھا ہوا ہو تو سکتا نہیں
ایسا ہوتا اگر
تو مری ساحرہ!
ہر کوئی کائناتوں کی تقسیم کو لا پٹختا زمیں پر
یہ انساں قیامت کا خود غرض اور لالچی۔
بھوک بھی تو عذابوں کی اقسام میں سے کوئی قسم ہے
اور عذاب آئیں تو
آسماں سے اترتی بلائیں یہ کب دیکھتی ہیں کہ کس کا
جنم اپنی مرضی مطابق ہوا
میں نے سڑکوں پہ
لاھور کی اور گجرات کی،
کتنی سڑکوں کے فٹ پاتھ پر
نیم جاں، ادھ مرے اور ہڈوں کا مجسمہ بنے
لاکھ ننگے بدن رینگتے جب بھی دیکھے
تو ایسا لگا
جیسے مجھ پر وہی بھوک کا سا عذاب آ گیا ہو
بھلا ایسے لوگوں کو کیسی تسلی،
بھلا کیا دلاسہ؟
اور ان کے وہ دھولوں اٹے جسم کی قدر و قیمت بھی کیا؟
یہ جنم بھی،
مری ساحرہ!
جس طرح سے عذابوں کی اقسام میں سے کوئی قسم ہو۔۔
زین شکیل