سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
جان سے مار دے مجھے لیکن
جان سے مار دے مجھے لیکن چھوڑ جانے کا مجھ پر ظلم نہ کر
مگر یہ طے ہے کہ میں اس کے غم میں رہتا ہوں
مگر یہ طے ہے کہ میں اس کے غم میں رہتا ہوں مِرے لیے وہ بھَلے بیقرار ہو کہ نہ ہو میں دُھوپ بن نہیں سکتا وصیؔ کسی کے لیے مِرے لیے کوئی اَبرِ بہار ہو کہ نہ ہو
کبھی یوں بھی تو ہو
کبھی یوں بھی تو ہو کہ بادل برسے اور تیری یاد مجھے بھیگ جانے دے ساری کبھی یوں بھی تو ہو کہ ہم کھو جائیں اور دنیا ہمیں ڈھونڈتی رہ جائے کبھی یوں بھی تو ہو کہ میں تیری بانہوں میں سر رکھوں اور زندگی گزر جائے کبھی یوں بھی تو ہو کہ میں تیری پلکوں پہ بند آنکھوں کی دعائیں رکھ دوں
گر پیادہ بھی کوئی جیت کے نکلا تو تِرا
گر پیادہ بھی کوئی جیت کے نکلا تو تِرا اور بازی میں کوئی شاہ بھی ہارا، میرا دل بھروسہ جو بہت کرنے لگا ہے اُس پر مجھ کو اک روز ڈبوئے گا، سہارا میرا جیتنے والے سبھی تیرے طرف دار ہوئے اور کھیل میں جو بھی کوئی ہارا، میرا
یہ بھی ممکن ہے کسی روز نہ پہچانوں اُسے
یہ بھی ممکن ہے کسی روز نہ پہچانوں اُسے، وہ جو ہر بار نیا بھیس بدل لیتا ہے۔۔ بارہا مجھ سے کہا تھا میرے یاروں نے وصی، عشق دریا ہے جو بچوں کو نگل لیتا ہے۔