کبھی یوں بھی تو ہو
کبھی یوں بھی تو ہو
کہ بادل برسے
اور تیری یاد مجھے
بھیگ جانے دے ساری
کبھی یوں بھی تو ہو
کہ ہم کھو جائیں
اور دنیا ہمیں
ڈھونڈتی رہ جائے
کبھی یوں بھی تو ہو
کہ میں تیری بانہوں میں
سر رکھوں
اور زندگی گزر جائے
کبھی یوں بھی تو ہو
کہ میں تیری پلکوں پہ
بند آنکھوں کی
دعائیں رکھ دوں
وصی شاہ