جبرکا موسم کب بدلے گا ہم بدلیں گے تب بدلے گا
میری عمر تو بیت گئی وہ اب کیا اپنا ڈھب بدلے گا
محکوموں کو ملے گی اک دن سب کا سب بدلے گا
اور عمر کٹی ہے سنتے سنتے اب بدلے گا اب بدلے گا
جبر کا موسم کب بدلے گا ہم بدلیں گے تب بدلے گا
وصی شاہ
سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے
کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تری یادوں کی خوشبو کھڑکیوں میں رقص کرتی ہے
ترے غم میں سلگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
نہ جانے ہو گیا ہوں اس قدر حساس میں کب سے
کسی سے بات کرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
میں سارا دن بہت مصروف رہتا ہوں مگر جوں ہی
قدم چوکھٹ پہ رکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
ہر اک مفلس کے ماتھے پر الم کی داستانیں ہیں
کوئی چہرہ بھی پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
بڑے لوگوں کے اونچے بد نما اور سرد محلوں کو
غریب آنکھوں سے تکتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
ترے کوچے سے اب میرا تعلق واجبی سا ہے
مگر جب بھی گزرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
زاروں موسموں کی حکمرانی ہے مرے دل پر
وصیؔ میں جب بھی ہنستا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
وصی شاہ
اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
دھوپ اتری ہوئی ہے بالوں میں
وصی شاہ
اس نے بالوں میں جو اک پھول لگایا ہوا ہے
باغ کا باغ اسے دیکھنے آیا ہوا ہے
ہے یہ نفرت کے محبت نہیں معلوم مگر
ایک ہی شخص میرے ذہن پہ چھایا ہوا ہے
تو نہ مانے گی مگر میری محبت کے طفیل
تیرے چہرے پہ عجب نور سا آیا ہوا ہے
تتلیو کیسے میں سمجھاؤں تمہیں زخم ہے زخم
یہ الگ بات کہ پھولوں سا سجایا ہوا ہے
جب بھی کرتا ہے تیرے بعد کوئی پیار کی بات
مجھ کو لگتا ہے کہ یہ گیت تو گایا ہوا ہے
گھونسلہ گرنے پہ چڑیاں جو کیا کرتی ہیں
تیری یادوں نے وہی شور مچایا ہوا ہے
کوئی پوچھے تو کہا کرتی ہےوہ کون وصی
جس نے آنچل میرے شیروں سے سجایا ہوا ہے
وصی شاہ
ایک دوجے کو بوڑھا ہوتے دیکھا ہے
بولو اور محبت کس کو کہتے ہیں
وصی شاہ
خدا ہی جانے کہ ان کی سزائیں کیا ہوں گی
شراب پی کے بھی جو لوگ جھوٹ بولتے ہیں
وصی شاہ
دلِ مکار کو مکار پکارا جائے
کیوں نہ غدار کو غدار پکارا جائے
ہم نے مانا کہ کہاں لوٹتی ہے عمرِ رواں
دل کے بہلانے کو ایک بار پکارا جائے
بھیک میں دے دے جو مئےکے لیے جوڑے سکے
ایسے مئے کش کو تو دیندار پکارا جائے
اس سے مظلوم کی توہین ہوا کرتی ہے
کبھی قاتل کو نہ دلدار پکارا جائے
میں ہی ہر بار قبیلے کے لیے دار چڑھوں
میرا نام ہی ہر بار پکارا جائے
پھر سے اس دل پہ پڑے تیری محبت کی پھوار
آج گا کر تجھے ملہار پکارا جائے
جس کی مٹھی میں محبت کے پڑے ہوں سکے
ایسے مفلس کو تو زردار پکارا جائے
اس لیے بھی کوئی تریاق نہیں ہم نے پیا
ہم کو ہر دم تیرا بیمار پکارا جائے
حرف تنقید علاج دل بیمار بھی ہے
ہر مخالف کو نا غدار پکارا جائے
پھر تو صدیاں اسے سینے سے لگاتی ہیں وصی
جو تیرے نام سے ایک بار پکارا جائے
وصی شاہ
کاش میں تیرے حسین ہاتھ کا کنگن ہوتا
تو بڑے پیار سے چاوسے بڑے مان کے ساتھ
اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کو
اور بیتابی سے فرقت کے خزاں لمحوں میں
تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کو
میں تیرے ہاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا
جب کبھی موڈ میں آکر مجھے چوما کرتی
تیرے ہونٹوں کی میں حدت سے دہک سا جاتا
کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا
تو بڑے پیار سے چاو سے بڑے مان کے ساتھ
اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کو
اور بے تابی سے فرصت کے خزاں لمحوں میں
تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کو
میں تیرے ہاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا
جب کبھی موڈمیں آکر مجھے چوما کرتی
تیرے ہونٹوں کی میں حدت سے دہک سا جاتا
رات کو جب بھی تو نیندوں کے سفر پر جاتی
مرمریں ہاتھ کا ایک تکیا بنایا کرتی
میں تیرے کان سے لگ کر کئی باتیں کرتا
تیری زلفوں کو تیرے گال کو چھیڑا کرتا
مجھ کو بے تاب سا رکھتا تیری چاہت کا نشہ
مجھ کو بے تاب سا رکھتا تیری چاہت کا نشہ
میں تیری روح کے گلشن میں مہکتا رہتا
میں تیرے جسم کے آنگن میں کھنکتا رہتا
کچھ نہیں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتا
کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا
وصی شاہ
ہم نے نیکی کا کوئی کام کیا ہو گا وصی
جو دیئے رب نے ہمیں آپ سے پیارے احباب
وصی شاہ
ہوش والوں پہ وہ کچھ ایسا فسوں کرتا تھا
ہر کوئی ہائے جنوں ہائے جنوں کرتا تھا
حال دل اس کو سناتا تھا میں گھنٹوں گھنٹوں
سنگ دل ایسا کہ ہاں کرتا نہ ہوں کرتا تھا
سب مجھے چھوڑ گئے ہیں تو پڑھا سوچتا ہوں
ان کی خاطر میں تمناؤں کا خوں کرتا تھا
سوچتے سوچتے یہ بات گزر جاوے ہے دن
یوں نہ کرتا تھا وہ اس بات کو یوں کرتا تھا
اب اکیلا ہوں سفر میں تو خیال آتا ہے
غیر کا ذکر میرے آگے وہ کیوں کرتا تھا
ماں کی آغوش میں لیٹے ہوئے سرگودھا میں
مدحت فلسفہ کن فیکوں کرتا تھا
ہوش والوں پہ وہ کچھ ایسا افسوں کرتا تھا
ہر کوئی ہائے جنوں ہائے جنوں کرتا تھا
وصی شاہ
یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
اے میری ماں مرا سارا مقام تم سے ہے
تمہارے دم سے ہیں میرے لہو میں کھلتے گلاب
مرے وجود کا سارا نظام تم سے ہے
گلی گلی میں جو آوارہ پھر رہا ہوتا
جہان بھر میں وہی نیک نام تم سے ہے
کہاں بساط جہاں اور میں کمسن و ناداں
یہ میری جیت کا سب اہتمام تم سے ہے
جہاں جہاں ہے مری دشمنی سبب میں ہوں
جہاں جہاں ہے مرا احترام تم سے ہے
اے میری ماں مجھے ہر پل رہے تمہارا خیال
تم ہی سے صبح مری میری شام تم سے ہے
یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
اے میری ماں مرا سارا مقام تم سے ہے
وصی شاہ