اپنی چادر کو پرچم کر سکتی ہے
اپنی چادر کو پرچم کر سکتی ہے
عورت اک تاریخ رقم کر سکتی ہے
ایوانوں سے نکل سکے تو یہ آواز
اک عالم درہم برہم کر سکتی ہے
چار دواری میں پابند اکیلی سوچ
ڈرو کہ قاتل کو محرم کر سکتی ہے
زندہ دفنائی گئی عورت کی اک چیخ
خاموشی کے ہاتھ قلم کر سکتی ہے
وہ جو بیاہی گئی کلام پاک کے ساتھ
لکھنے کو پوریں تو قلم کر سکتی ہے
گہری کالی رات میں ایک دیے کی لو
تاریکی كا دکھ تو کم کر سکتی ہے
بچوں کی ننھی منی میٹھی مسکان
جینے كا سامان بہم کر سکتی ہے
عشرت آفریں