کوئی حسین بدن جن کی دسترس میں نہیں
کوئی حسین بدن جن کی دسترس میں نہیں
یہی کہیں گے کہ کچھ فائدہ ہوس میں نہیں
قریبی لوگوں کی فہرست میں تو ہیں اُس کی
مگر یہ دُکھ ہے کہ ہم پہلے آٹھ، دس میں نہیں
ہمیں عزیز ہے کردار فتح سے بڑھ کر
سو ہم شکست تو کھا لیں گے، جھوٹی قسمیں نہیں
نہیں ہے فرض محبت نہ ہو سکی، نہ سہی
وہ کام کرنا ہی کیوں ہے جو اپنے بس میں نہیں
یہ بھول جا کہ رہائی کبھی ملے گی تجھے
ہمارے دھیان میں رہتا ہے تُو قفس میں نہیں
تنزلی کا سفر ہم نے ارتقاء کی طرح
دہائیوں میں کیا۔۔ ایک، دو برس میں نہیں
عمیر نجمی