فاران وڑائچ

فاران وڑائچ

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

جونہی گھبرا کے مری آنکھ سے آنسو نکلے

جونہی گھبرا کے مری آنکھ سے آنسو نکلے ماں کی تصویر سے بے ساختہ بازو نکلے آپ کی ترش مزاجی بھی گوارا لیکن بات جیسی بھی ہو مگر امن کا پہلو نکلے ایک میں خاک تو دوجے میں اٹھا کر دولت پھینکنے والے ترے ہاتھ ترازو نکلے میرے سردار نے کچھ ایسے مدینہ چھوڑا جیسے ٹہنی پہ کھلے پھول سے خوشبو نکلے میں نے مقتل میں جو یاروں کو صدا دی راکب سر کہیں سے تو کہیں ریت سے بازو نکلے

شاعر: راکب مختار — پیشکش: فاران وڑائچ

‹ کلام کی فہرست پر واپس