ارشد گجر

ارشد گجر

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

مت کہیں پھر سے کہ تمہارے ہیں

مت کہیں پھر سے کہ تمہارے ہیں بڑی مشکل سے دن سنوارے ہیں آپ جائیں وضاحتیں مت دیں ہجر ایسے بہت گزارے ہیں زخم وہ دکھا نہیں سکتا اس نے لہجے کے تیر مارے ہیں حسن جیسی بلا نہیں ٹلتی بارہا صدقے بھی اتارے ہیں جو گریں اس کے گیلے بالوں سے یار بوندیں نہیں ستارے ہیں آئینہ بھی بتا نہیں سکتا آپ کتنے حسین پیارے ہیں باغ سے خار لائیں جو چن کر وہ ہیں کم ظرف بخت مارے ہیں ایسے ہنس کر یہ روز کا ملنا یہ بچھڑے کے سب اشارے ہیں خود کشی کر تو لوں مگر قلزم میرے غم میرے ہی سہارے ہیں

شاعر: زبیر قلزم — پیشکش: ارشد گجر

‹ کلام کی فہرست پر واپس