تو کیا ہوا جو آپ کے ، شمار میں نہیں رہا
تو کیا ہوا جو آپ کے ، شمار میں نہیں رہا
میں مختلف سا شخص تھا ہزار میں نہیں رہا
یقین مانیے کہ جب سے آپ میرے ہو گئے
تو یہ ہوا کہ ذائقہ، انار میں نہیں رہا
فقط یہ آپ کا گلہ نہیں ہے میرے محترم
ہمارے ساتھ جو رہا،،، قرار میں نہیں رہا
مجھے بھی عشق ہو دعائیں مانگتا تھا، اور پھر
میں دائرے میں آ گیاقطار میں نہیں رہا
وہ سوکھ کر بتا مجھے خزاں سے کیا گلہ کرے
درخت جو ہرا بھرابہار میں نہیں رہا
کبھی تو تیس کو خوشی خوشی سے یہ بتاؤں گا
میں اس مہینے دیکھ ماں! ادھار میں نہیں رہا
شراب میں سرور کی تجھے سمجھ نہ آئے گی
کہ تُو کسی کی آنکھ کے، خمار میں نہیں رہا
کسی کے روٹھنے سے رنگ زرد پڑ گیا میرا
وگرنہ دو گھڑی بھی میں بخار میں نہیں رہا
ستارہ ہو یا اشک ہو یہ طے شدہ سی بات ہے
وہ ٹوٹ کر گرے گا جو مدار میں نہیں رہا
نا معلوم