روح من
اے میری روح میں سلے ہوئے شخص
تم سے دوری میرے ذہن کو بہت بے چین کرتی ہے
میں نہیں جانتا مجھ سے دوری
تمہارے پاس میرے لئے وقت کی قلت ہے
یا تمہارا مجھے نظر انداز کرنا
مجھ سے اب صبر نہیں ہوتا
یہ دسمبر کی ٹھٹھرتی ہوئی راتیں مجھ پہ قہر ڈھاتی ہیں
میری روح تمہارے نہ ہونے سے بہت اداس اور بے چین ہے
سنو میں بہت بے چین ہوں
میرا دل شدت سے تمہیں پکار رہا ہے
تم میری تڑپ کو محسوس کرو
اور اپنی آواز کا رس میرے کانوں میں گھولو
تاکہ میری سانسیں مہک اٹھیں
اور میرا بے جان جسم حرکت کرے
میری نبضیں دوڑنا شروع کریں
میری ویران جبین کو تمہارے شفایاب لبوں کی ضرورت ہے
میری نبضیں مدھم پڑ چکی ہیں
میرا دل اس غصب ناک اداسی میں ڈوب چکا ہے
آؤ اور میری اداسی دور کرو
مگر ...
تم ہو کہ اب مجھے میسر ہی نہیں آتے
انتظارحسین