فکر

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

کیا تم سے کہوں مجھ سے وہ کیا پوچھ رہا تھا

کیا تم سے کہوں مجھ سے وہ کیا پوچھ رہا تھا
مجھ سے ہی میرے گھر کا پتہ پوچھ رہا تھا
نفرت کے اسیروں سے مری سادگی دیکھو
میں درد محبت کی دوا پوچھ رہا تھا
بے باک نگاہوں کی طرف دیکھ کے میرا
دل مجھ سے تڑپنے کا مزا پوچھ رہا تھا
کیوں کر نہ کیا یاد مجھے وقت مصیبت
لوگوں سے محبت کا خدا پوچھ رہا تھا
اقرار محبت کا یہ انداز عجب ہے
وہ کرکے خطا میری خطا پوچھ رہا تھا
شاید وہ اسی بات پہ رونے لگے دلکشؔ
میں جرم محبت کی سزا پوچھ رہا تھا

مصطفی دلکش