مہرزادہ

مہرزادہ

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

تمہی نہیں ہو تو زندگانی میں کچھ نہیں ہے

تمہی نہیں ہو تو زندگانی میں کچھ نہیں ہے ! سناؤں کس کو ؟ کہ اس کہانی میں کچھ نہیں ہے ! بڑی خوشی سے میں رائیگانی میں جی رہا ہوں ! یہ جان کر بھی کہ رائیگانی میں کچھ نہیں ہے ! سنو یہ آنسو کہیں تمہیں بے سکوں نہ کر دے ! یہ صرف پانی ہے اور پانی میں کچھ نہیں ہے ! ضعیف سوچیں ہی ذہن و دل پر جمی پڑی ہیں ! سوائے اس کے بھری جوانی میں کچھ نہیں ہے ! تری نشانی میں یاد تیری بچی تھی دل میں ! مگر یہ سچ ہے کہ اب نشانی میں کچھ نہیں ہے ! کوئی تو رہتا ہے رنج و غم سے پرے وہاں بھی ! میں کیسے مانوں کہ لامکانی میں کچھ نہیں ہے ! وہ مہرباں ہے زمانے بھر کے لیے ! تو ہو گا ! مرے لیے اُس کی مہربانی میں کچھ نہیں ہے ! سوائے وقت اس نئی محبت میں کیا نیا ہے ؟ پرانی جیسی ہے ! اور پرانی میں کچھ نہیں ہے ! یہ جاودانی بھی ہے لباسِ فنا میں پنہاں ! فنا میں سب کچھ ہے ! جاودانی میں کچھ نہیں ہے ! رہیں گے اب زین آخری سانس تک اُسی کے ! کوئی بھلے ہی کہے نمانی میں کچھ نہیں ہے !

شاعر: زین شکیل — پیشکش: مہرزادہ

‹ کلام کی فہرست پر واپس