تمہی نہیں ہو تو زندگانی میں کچھ نہیں ہے
تمہی نہیں ہو تو زندگانی میں کچھ نہیں ہے !
سناؤں کس کو ؟ کہ اس کہانی میں کچھ نہیں ہے !
بڑی خوشی سے میں رائیگانی میں جی رہا ہوں !
یہ جان کر بھی کہ رائیگانی میں کچھ نہیں ہے !
سنو یہ آنسو کہیں تمہیں بے سکوں نہ کر دے !
یہ صرف پانی ہے اور پانی میں کچھ نہیں ہے !
ضعیف سوچیں ہی ذہن و دل پر جمی پڑی ہیں !
سوائے اس کے بھری جوانی میں کچھ نہیں ہے !
تری نشانی میں یاد تیری بچی تھی دل میں !
مگر یہ سچ ہے کہ اب نشانی میں کچھ نہیں ہے !
کوئی تو رہتا ہے رنج و غم سے پرے وہاں بھی !
میں کیسے مانوں کہ لامکانی میں کچھ نہیں ہے !
وہ مہرباں ہے زمانے بھر کے لیے ! تو ہو گا !
مرے لیے اُس کی مہربانی میں کچھ نہیں ہے !
سوائے وقت اس نئی محبت میں کیا نیا ہے ؟
پرانی جیسی ہے ! اور پرانی میں کچھ نہیں ہے !
یہ جاودانی بھی ہے لباسِ فنا میں پنہاں !
فنا میں سب کچھ ہے ! جاودانی میں کچھ نہیں ہے !
رہیں گے اب زین آخری سانس تک اُسی کے !
کوئی بھلے ہی کہے نمانی میں کچھ نہیں ہے !
زین شکیل