مہہ جبین

مہہ جبین

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

ہے زندہ فقط وحدتِ افکار سے ملّت

ہے زندہ فقط وحدتِ افکار سے ملّت وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد وحدت کی حفاظت نہیں بے قُوّتِ بازو آتی نہیں کچھ کام یہاں عقلِ خدا داد اے مردِ خدا! تجھ کو وہ قُوّت نہیں حاصل جا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یاد مسکینی و محکومی و نومیدیِ جاوید جس کا یہ تصّوف ہو وہ اسلام کر ایجاد مُلّا کو جو ہے ہِند میں سجدے کی اجازت ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

شاعر: علامہ اقبال — پیشکش: مہہ جبین

‹ کلام کی فہرست پر واپس