پھاڑوں نہ گریبان , دمادم نہ کروں میں
پھاڑوں نہ گریبان , دمادم نہ کروں میں
احساس کو اظہار سے باہم نہ کروں میں
میں روز اٹھاتا ہوں کسی خواب کی میت
اور آپ یہ کہتے ہیں کہ ماتم نہ کروں میں
سمجھاتا تو ہوں خود کو کہ مضبوط رکھوں دل
اور آنکھ کوتنہاٸی میں بھی نم نہ کروں میں
چلانے پہ کہتے ہو بغاوت ھے بغاوت
اور صبر پہ کہتے ہو کبھی کم نہ کروں میں
خاموش رہوں گر تو انہیں چین نہیں ھے
کچھ بولوں تو کہتےہیں کہ برہم نہ کروں میں
اک شخص دکھا دو مجھے ہنستا ہوا دل سے
یعنی کہ یہ سب دیکھ کےبھی غم نہ کروں
صد حیف جو مظلوم کی آواز نہ بن پاوں
صد حیف اگر شعر کو پرچم نہ کروں میں
کل کس کو دکھا پاوں گا منہ روزقیامت
نظریہءحق اب جو مقدم نہ کروں میں
فرحت میں حسین ابن علی والا ہوں سن لو
مرجاوں مگر مر کے بھی سر خم نہ کروں میں
فرحت عباس شاہ