فرحت شاہ

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

وہ چاروں سمت سے تنظیم کر کے مارتے ہیں

وہ چاروں سمت سے تنظیم کر کے مارتے ہیں
ہمارے جیسوں کو تقسیم کر کے مارتے ہیں
مذاکرات کے پھندے لگا کے ہیں رکھتے
معاہدات کو تسلیم کر کے مارتے ہیں
فنونِ جبر و ستم میں بلا کے ہیں مشّاق
خیال و خواب کی تجسیم کر کے مارتے ہیں
شِقیں بناتے ہیں پہلے اٹل تسلط کی
پھر ان شِقوں میں بھی ترمیم کر کے مارتے ہیں
پراپیگنڈا انہیں اس لیے بھی ہے مرغوب
یہ کچے ذہنوں کو تنویم کر کے مارتے ہیں
ہمارا مدِ مقابل ہو نیچ جتنا بھی
ہم اہلِ ظرف ہیں، تعظیم کر کے مارتے ہیں

فرحت عباس شاہ