بوسۂ خال کی قیمت مِری جاں ٹھہری ہے
بوسۂ خال کی قیمت مِری جاں ٹھہری ہے
چیز کتنی سی ہے اور کِتنی گراں ٹھہری ہے
چھیڑ کر پھر مجھے مصروف نہ کر نالوں میں
دو گھڑی کے لیے صیاد! زباں ٹھہری ہے
آہِ پُر سوز کو دیکھ اے دلِ کمبخت نہ روک
آگ نکلی ہے لگا کر، یہ جہاں ٹھہری ہے
صبح سے جنبشِ ابرو و مژہ سے پیہم
نہ تِرے تیر رکے ہیں، نہ کماں ٹھہری ہے
دم نکلنے کو ہے، ایسے میں وہ آ جائیں قمرؔ
صرف دم بھر کے لیے روح رواں ٹھہری ہے
قمرجلالوی