سید جینٹلمین

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

برباد محبت کا بس اتنا فسانہ ہے

برباد محبت کا بس اتنا فسانہ ہے
رونے کو نہیں کوئی ہنسنے کو زمانہ ہے
کچھ کم نہ تھا ان کا غم اس پر غم ہستی بھی
مر مر کے سہی لیکن یہ بوجھ اٹھانا ہے
کل مجھ کو تھا غم ان کا اب ان کو ہے غم میرا
اک وہ بھی زمانہ تھا اک یہ بھی زمانہ ہے
یکتائی و کثرت میں ہے فرق تو بس اتنا
سمٹے تو مرا دل ہے پھیلے تو زمانہ ہے
اللہ عجب شے ہے یہ جذب محبت بھی
دیکھیں وہ کسی جانب دل میرا نشانہ ہے
چھایا ہوا ہر شے پر عالم ہے جوانی کا
جوبن پہ ہے فصل گل مٹنے کا زمانہ ہے
اس دکھ بھری دنیا کی اوقات بس اتنی ہے
دیکھو تو حقیقت ہے سمجھو تو فسانہ ہے
وہ دور ہوس کا تھا یہ دور محبت ہے
جب غم کو بھلاتے تھے اب خود کو بھلانا ہے
باقی نہ کہیں دل میں رہ جائے کوئی ارماں
تھوڑا سا بھٹک بھی لیں منزل پہ تو آنا ہے
تھے غالبؔ و مومنؔ بھی یکتائے جہاں لیکن
وہ ان کا زمانہ تھا یہ میرا زمانہ ہے
دم لینے بھی دے ساحرؔ ظالم یہ غم دوراں
بربادیٔ الفت پر دو اشک بہانا ہے

ساحر بھوپالی