خاک ہوتی ہوئی لہروں کی ہم آغوشی میں
خاک ہوتی ہوئی لہروں کی ہم آغوشی میں
ڈوبتا جاتا ہوں دریائے فراموشی میں
کبھی سناٹے کی تصویر کبھی چاپ کا عکس
کتنے منظر نظر آئے ہمہ تن گوشی میں
تیری آنکھیں ہیں نہاں میرے خد و خال کے ساتھ
تیری آواز چھپی ہے مری خاموشی میں
ڈھانپ سکتا تھا میں سینے کا کنواں بھی لیکن
خرچ ہوتا رہا آنکھوں کی خلا پوشی میں
چٹکیاں کاٹتی ہے روح بدن میں شارقؔ
چیختا ہے کوئی سایہ کبھی سرگوشی میں
سعید شارق