پیش کردہ کلام
- 01 تیری محفل مری شرکت نہیں دیکھی جاتی
- 02 کیوں کیا کرتے ہیں آہیں کوئی ہم سے پوچھے
- 03 کوئی کیوں بے وفا ہے کیا کہئے
- 04 دل میں دھڑکن ہے نہ آنکھوں میں نظر باقی ہے
- 05 سادہ کاغذ پہ کوئی نام کبھی لکھ لینا!
- 06 مجھے ڈھائے چلا جا مجھ کو بنائے چلا جا
- 07 نئی زمین نیا آسماں تلاش کرو
- 08 اپنی دھن میں بہتے ہوئے دریاؤں کو زخمایا ہے
- 09 کیوں زندگی کی راہ میں مجبور ہوگئے
- 10 جب آئینہ کوئی دیکھو اک اجنبی دیکھو
- 11 ادھر یہ حال کہ چھونے کا اختیار نہیں
- 12 مولا !! کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیو
- 13 تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں
- 14 لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں
- 15 اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے
- 16 کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا
- 17 تمام عمر بڑے سخت امتحان میں تھا
- 18 مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی
- 19 دین سے دور نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
- 20 دن گزرتا ہے کہیں شام کہیں رات کہیں
- 21 خاک ہوتی ہوئی لہروں کی ہم آغوشی میں
- 22 چمن میں مجھ سے دیوانے کے لے جانے سے کیا حاصل
- 23 حق مجھے باطل آشنا نہ کرے
- 24 گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیا
- 25 کالا امبر پیلی دھرتی یا اللہ
- 26 چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا
- 27 ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرست
- 28 اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیں
- 29 ختم شور طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھی
- 30 غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا کیا اب تم سے بیان کریں
- 31 اگر غفلت سے باز آیا جفا کی
- 32 نہ کٹتي ہم سے شب جدائي کي
- 33 عمر گریزاں کے نام
- 34 زندگی کا وقفہ
- 35 جلووں سے مرے ہوش اڑانے میں لگے ہیں
- 36 برباد محبت کا بس اتنا فسانہ ہے
- 37 دل کے لیے حیات کا پیغام بن گئیں
- 38 تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیا
- 39 سفر کی موج میں تھے وقت کے غبار میں تھے
- 40 اس اپنی کرن کو آتی ہوئی صبحوں کے حوالے کرنا ہے
- 41 بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوں
- 42 بیٹھے بیٹھے کیسا دل گھبرا جاتا ہے
- 43 کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلا
- 44 رخ و زلف پر جان کھویا کیا
- 45 آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھا
- 46 یوں نہ کوئی تری محفل میں پریشاں ہو جائے
- 47 صبا کو فکر ہے کعبہ نیا بنانے کی
- 48 محشر کا اعتبار ہوا ہے کبھی کبھی
- 49 اب کیا بتاؤں درد کہاں تھا کہاں نہ تھا
- 50 آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئے
- 51 حسن کے دل میں جگہ پاتے ہی دیوانہ بنے
- 52 چند لمحوں کے لئے انجمن آرائی تھی
- 53 کوئی بے وجہ کیوں خفا ہوگا
- 54 بہار آئی گلی کی طرح دل کھول
- 55 نپٹ یہ ماجرا یارو کڑا ہے
- 56 چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
- 57 کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرے
- 58 اتنا تو زندگی میں کسی کے خلل پڑے
- 59 جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
- 60 نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میں
- 61 تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے
- 62 مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہی
- 63 یہ میرے چاروں طرف کس لیے اجالا ہے
- 64 غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا
- 65 آنکھوں میں حیا آ جاتی ہے ہونٹوں پہ تبسم لاتے ہیں
- 66 ہمیں ملا نہ کبھی سوز زندگی سے فراغ
- 67 اسے چھوتے ہوئے بھی ڈر رہا تھا
- 68 اپنے کو تیرے دھیان میں جس نے مٹا دیا
- 69 اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہو
- 70 خط جو نکلا بوسۂ رخسار آساں ہو گیا
- 71 وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں
- 72 بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے
- 73 لیتے تھے لطف ہم اَدَبی اختلاف کا
- 74 پرانے محلے کا سنسان آنگن
- 75 بظاہر ٹوٹ کر بکھرے نہیں ہیں
- 76 آگ پانی میں فروزاں دیکھو
- 77 سفر بھی دور کا ہے راہ آشنا بھی ہیں
- 78 خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی
- 79 سنبھلنے کے لئے گرنا پڑا ہے
- 80 اک بار پھر وطن میں گیا جا کے آ گیا
- 81 چار سو ہے بڑی وحشت کا سماں
- 82 کچھ لوگ
- 83 ماہیت
- 84 جب دل کی رہ گزر پہ ترا نقش پا نہ تھا
- 85 وہ جو جلووں اوٹ چھپا ہے
- 86 اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا
- 87 سحر ہوتے ہی اٹھ کر وہ جو گھر سے باہر آ نکلا
- 88 آخری بار ملو
- 89 تجدید
- 90 تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد
- 91 جو اس کے چہرے پہ رنگ حیا ٹھہر جائے
- 92 مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
- 93 دور ہے منزل، راہیں مشکل، عالم ہے تنہائی کا
- 94 وہ جو لگتا ہے ہمیں جان سے پیارا پاگل
- 95 یہ تو لوگوں نے یونہی بات بنائی ہوئی ہے
- 96 آئی ہے میری سمت صدا ور دور سے
- 97 برق کلیسا
- 98 ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے
- 99 جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا
- 100 ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
- 101 کون رکھے گا ہمیں یاد اس دور خود غرضی میں
- 102 ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
- 103 ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میری
- 104 اپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیا
- 105 مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
- 106 تھکن تو اگلے سفر کے لیے بہانہ تھا
- 107 اب اس میں کاوش کوئی نہ کچھ اہتمام میرا
- 108 تیری یاد وچ سجناں کی دساں
- 109 وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
- 110 مرحلہ رات کا جب آئے گا
- 111 ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے
- 112 ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی
- 113 جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے
- 114 دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا
- 115 مری مستی کے افسانے رہیں گے
- 116 کچھ حال نہ پوچھو عاجزؔکا کمبخت عجب دیوانہ ہے
- 117 ہر چند غم و درد کی قیمت بھی بہت تھی
- 118 بہت سے خواب دیکھے ہیں، کبھی شعروں میں ڈھالیں گے
- 119 جو لوگ جان بوجھ کے نادان بن گئے
- 120 دوستوں کے نام یاد آنے لگے
- 121 چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے
- 122 باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح
- 123 بے زباں کلیوں کا دل میلہ کیا
- 124 دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا