search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
سید جینٹلمین
مقرر / سپیکر
تعارف
انتخابِ کلام
کیوں زندگی کی راہ میں مجبور ہوگئے
(13 فروری 2026)
جب آئینہ کوئی دیکھو اک اجنبی دیکھو
(13 فروری 2026)
ادھر یہ حال کہ چھونے کا اختیار نہیں
(12 فروری 2026)
مولا !! کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیو
(12 فروری 2026)
تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں
(11 فروری 2026)
لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں
(11 فروری 2026)
اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے
(10 فروری 2026)
کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا
(10 فروری 2026)
تمام عمر بڑے سخت امتحان میں تھا
(10 فروری 2026)
مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی
(08 فروری 2026)
دین سے دور نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
(08 فروری 2026)
دن گزرتا ہے کہیں شام کہیں رات کہیں
(05 فروری 2026)
خاک ہوتی ہوئی لہروں کی ہم آغوشی میں
(05 فروری 2026)
چمن میں مجھ سے دیوانے کے لے جانے سے کیا حاصل
(04 فروری 2026)
حق مجھے باطل آشنا نہ کرے
(04 فروری 2026)
گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیا
(02 فروری 2026)
کالا امبر پیلی دھرتی یا اللہ
(02 فروری 2026)
چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا
(01 فروری 2026)
ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرست
(01 فروری 2026)
اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیں
(31 جنوری 2026)
ختم شور طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھی
(31 جنوری 2026)
غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا کیا اب تم سے بیان کریں
(29 جنوری 2026)
اگر غفلت سے باز آیا جفا کی
(28 جنوری 2026)
نہ کٹتي ہم سے شب جدائي کي
(28 جنوری 2026)
عمر گریزاں کے نام
(27 جنوری 2026)
زندگی کا وقفہ
(27 جنوری 2026)
جلووں سے مرے ہوش اڑانے میں لگے ہیں
(26 جنوری 2026)
برباد محبت کا بس اتنا فسانہ ہے
(26 جنوری 2026)
دل کے لیے حیات کا پیغام بن گئیں
(25 جنوری 2026)
تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیا
(25 جنوری 2026)
سفر کی موج میں تھے وقت کے غبار میں تھے
(24 جنوری 2026)
اس اپنی کرن کو آتی ہوئی صبحوں کے حوالے کرنا ہے
(24 جنوری 2026)
بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوں
(23 جنوری 2026)
بیٹھے بیٹھے کیسا دل گھبرا جاتا ہے
(23 جنوری 2026)
کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلا
(22 جنوری 2026)
رخ و زلف پر جان کھویا کیا
(22 جنوری 2026)
آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھا
(21 جنوری 2026)
یوں نہ کوئی تری محفل میں پریشاں ہو جائے
(21 جنوری 2026)
صبا کو فکر ہے کعبہ نیا بنانے کی
(20 جنوری 2026)
محشر کا اعتبار ہوا ہے کبھی کبھی
(20 جنوری 2026)
اب کیا بتاؤں درد کہاں تھا کہاں نہ تھا
(20 جنوری 2026)
آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئے
(19 جنوری 2026)
حسن کے دل میں جگہ پاتے ہی دیوانہ بنے
(19 جنوری 2026)
چند لمحوں کے لئے انجمن آرائی تھی
(18 جنوری 2026)
کوئی بے وجہ کیوں خفا ہوگا
(18 جنوری 2026)
بہار آئی گلی کی طرح دل کھول
(17 جنوری 2026)
نپٹ یہ ماجرا یارو کڑا ہے
(17 جنوری 2026)
چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
(15 جنوری 2026)
کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرے
(15 جنوری 2026)
اتنا تو زندگی میں کسی کے خلل پڑے
(14 جنوری 2026)
جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
(14 جنوری 2026)
نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میں
(13 جنوری 2026)
تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے
(13 جنوری 2026)
مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہی
(12 جنوری 2026)
یہ میرے چاروں طرف کس لیے اجالا ہے
(09 جنوری 2026)
غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا
(09 جنوری 2026)
آنکھوں میں حیا آ جاتی ہے ہونٹوں پہ تبسم لاتے ہیں
(08 جنوری 2026)
ہمیں ملا نہ کبھی سوز زندگی سے فراغ
(08 جنوری 2026)
اسے چھوتے ہوئے بھی ڈر رہا تھا
(07 جنوری 2026)
اپنے کو تیرے دھیان میں جس نے مٹا دیا
(06 جنوری 2026)
اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہو
(05 جنوری 2026)
خط جو نکلا بوسۂ رخسار آساں ہو گیا
(05 جنوری 2026)
وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں
(02 جنوری 2026)
بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے
(01 جنوری 2026)
لیتے تھے لطف ہم اَدَبی اختلاف کا
(01 جنوری 2026)
پرانے محلے کا سنسان آنگن
(30 دسمبر 2025)
بظاہر ٹوٹ کر بکھرے نہیں ہیں
(30 دسمبر 2025)
آگ پانی میں فروزاں دیکھو
(30 دسمبر 2025)
سفر بھی دور کا ہے راہ آشنا بھی ہیں
(18 دسمبر 2025)
خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی
(18 دسمبر 2025)
سنبھلنے کے لئے گرنا پڑا ہے
(18 دسمبر 2025)
اک بار پھر وطن میں گیا جا کے آ گیا
(16 دسمبر 2025)
چار سو ہے بڑی وحشت کا سماں
(15 دسمبر 2025)
کچھ لوگ
(15 دسمبر 2025)
ماہیت
(14 دسمبر 2025)
جب دل کی رہ گزر پہ ترا نقش پا نہ تھا
(12 دسمبر 2025)
وہ جو جلووں اوٹ چھپا ہے
(12 دسمبر 2025)
اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا
(11 دسمبر 2025)
سحر ہوتے ہی اٹھ کر وہ جو گھر سے باہر آ نکلا
(11 دسمبر 2025)
آخری بار ملو
(10 دسمبر 2025)
تجدید
(10 دسمبر 2025)
تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد
(09 دسمبر 2025)
جو اس کے چہرے پہ رنگ حیا ٹھہر جائے
(09 دسمبر 2025)
مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
(08 دسمبر 2025)
دور ہے منزل، راہیں مشکل، عالم ہے تنہائی کا
(08 دسمبر 2025)
وہ جو لگتا ہے ہمیں جان سے پیارا پاگل
(06 دسمبر 2025)
یہ تو لوگوں نے یونہی بات بنائی ہوئی ہے
(06 دسمبر 2025)
آئی ہے میری سمت صدا ور دور سے
(05 دسمبر 2025)
برق کلیسا
(04 دسمبر 2025)
ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے
(04 دسمبر 2025)
جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا
(04 دسمبر 2025)
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
(03 دسمبر 2025)
کون رکھے گا ہمیں یاد اس دور خود غرضی میں
(03 دسمبر 2025)
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
(02 دسمبر 2025)
ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میری
(01 دسمبر 2025)
اپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیا
(01 دسمبر 2025)
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
(30 نومبر 2025)
تھکن تو اگلے سفر کے لیے بہانہ تھا
(30 نومبر 2025)
اب اس میں کاوش کوئی نہ کچھ اہتمام میرا
(30 نومبر 2025)
تیری یاد وچ سجناں کی دساں
(29 نومبر 2025)
وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
(28 نومبر 2025)
مرحلہ رات کا جب آئے گا
(28 نومبر 2025)
ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے
(27 نومبر 2025)
ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی
(27 نومبر 2025)
جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے
(26 نومبر 2025)
دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا
(26 نومبر 2025)
مری مستی کے افسانے رہیں گے
(25 نومبر 2025)
کچھ حال نہ پوچھو عاجزؔکا کمبخت عجب دیوانہ ہے
(25 نومبر 2025)
ہر چند غم و درد کی قیمت بھی بہت تھی
(25 نومبر 2025)
بہت سے خواب دیکھے ہیں، کبھی شعروں میں ڈھالیں گے
(24 نومبر 2025)
جو لوگ جان بوجھ کے نادان بن گئے
(23 نومبر 2025)
دوستوں کے نام یاد آنے لگے
(23 نومبر 2025)
چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے
(22 نومبر 2025)
باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح
(22 نومبر 2025)
بے زباں کلیوں کا دل میلہ کیا
(20 نومبر 2025)
دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا
(20 نومبر 2025)