مدثر ثانی

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

جو رہن رکھے تھے واپس وہ خواب دے مجھ کو

جو رہن رکھے تھے واپس وہ خواب دے مجھ کو
کہاں گئیں مری آنکھیں جواب دے مجھ کو
اب اُس کا رنگ مرے خون میں بھی شامل ہے
تجھے یہ کس نے کہا تھا گلاب دے مجھ کو
مرے بغیر گزارے ہیں اتنے دن تو نے
کہاں گزارے ہیں کچھ تو حساب دے مجھ کو
مجھے بھی پیاس بجھانی ہے اپنے صحرا کی
کسی پیالے میں بھر کر سراب دے مجھ کو
میں اپنی موج سے طوفان اُٹھانا چاہتا ہوں
سمندروں کی طرح پیچ و تاب دے مجھ کو
تمام عمر محبت میں کاٹ دی میں نے
یہ جرم ہے تو سزا دے، عذاب دے مجھ کو
میں جس کو بھرتے ہوئے زیست کر سکوں آزر
کوئی تو زخم بہت دیریاب دے مجھ کو

دلاور علی آزر