مدثر ثانی

مدثر ثانی

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

کیا زندگی ہے اپنی مگر زندگی تو ہے

کیا زندگی ہے اپنی مگر زندگی تو ہے جینے کا اپنے پاس بہانہ یہی تو ہے سوئیں گے ہم بھی چین سے آئے گی وہ بھی رات بھر جائے گا کبھی نہ کبھی زخم ہی تو ہے ہے جس کا انتظار وہ ممکن ہے آ ہی جائے تھوڑی سی دیر کے لیے بارش رُکی تو ہے باصرِؔ کہاں سے لائیں اب اُس کو ترے لیے یہ بات ہی بہت ہے کہ محفل جمی تو ہے

شاعر: باصر سلطان کاظمی — پیشکش: مدثر ثانی

‹ کلام کی فہرست پر واپس