اس میں عکس آپ کا اتاریں گے
اس میں عکس آپ کا اتاریں گے
دل کو اپنے یوں ہیں سنواریں گے
ہم سے کرتی ہے یہ بہت غمزے
ہم بھی دنیا پہ لات ماریں گے
رزق مقسوم ہی ملےگا اسے
کوئی دنیا میں دوڑے یا رینگے
عشق کہتا ہے لطف ہوں گے بڑے
ہجر کہتا ہے جان ماریں گے
دل کی افسردگی نہ جائے گی
ہاں وہ چاہیں گے تو ابھاریں گے
دل نہ دوں گا میں آپ کو ہرگز
مفت میں آپ جان ماریں گے
پند اکبرؔ کو دیں گے کیا ناصح
گل کو کیا باغباں سنواریں گے
اکبر اللہ آبادی