گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جانا
گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جانا تم کسی چشم خریدار میں مت آ جانا خاک اڑانا انہیں گلیوں میں بھلا لگتا ہے چلتے پھرتے کسی دربار میں مت آ جانا یوں ہی خوشبو کی طرح پھیلتے رہنا ہر سو تم کسی دام طلب گار میں مت آ جانا دور ساحل پہ کھڑے رہ کے تماشا کرنا کسی امید کے منجدھار میں مت آ جانا اچھے لگتے ہو کہ خود سر نہیں خوددار ہو تم ہاں سمٹ کے بت پندار میں مت آ جانا چاند کہتا ہوں تو مطلب نہ غلط لینا تم رات کو روزن دیوار میں مت آ جانا
‹ کلام کی فہرست پر واپس