ہر گوشۂ نظر میں سمائے ہوئے ہو تم
ہر گوشۂ نظر میں سمائے ہوئے ہو تم
جیسے کہ میرے سامنے آئے ہوئے ہو تم
میری نگاہ شوق پہ چھائے ہوئے ہو تم
جلووں کو خود حجاب بنائے ہوئے ہو تم
کیوں اک طرف نگاہ جمائے ہوئے ہو تم
کیا راز ہے جو مجھ سے چھپائے ہوئے ہو تم
دل نے تمہارے حسن کو بخشی ہیں رفعتیں
دل کو مگر نظر سے گرائے ہوئے ہو تم
یہ جو نیاز عشق کا احساس ہے تمہیں
شاید کسی کے ناز اٹھائے ہوئے ہو تم
یا مہربانیوں کے ہی قابل نہیں ہوں میں
یا واقعی کسی کے سکھائے ہوئے ہو تم
اب امتیاز پردہ و جلوہ نہیں مجھے
چہرے سے کیوں نقاب اٹھائے ہوئے ہو تم
اف رے ستم شکیلؔ یہ حالت تو ہو گئی
اب بھی کرم کی آس لگائے ہوئے ہو تم
شکیل بدیوانی