پیش کردہ کلام
- 01 سر پہ رکھوں تو کبھی سُرما بناوں مٹی
- 02 علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا
- 03 پڑی ہے رات کوئی غم شناس بھی نہیں ہے
- 04 تماشائی تو ہیں تماشا نہیں ہے
- 05 کون ہے راجہ کون ہے رانی
- 06 بیمار محبت ہوں ترساؤ نہ صورت کو
- 07 الفت نہ کروں گا اب کسی کی
- 08 کچھ آنے والوں کی تاخیر سے تنگ آ گئے ہیں
- 09 کس نے کوئی سچ لکھا ہے یہ فقط الزام ہے
- 10 لگتا ہے اپنے عہد و بیاں سے مکر گئے
- 11 خاک کر ڈالیں ابھی چاہیں تو مے خانہ کو ہم
- 12 وہ روح کے گنبد میں صدا بن کے ملے گا
- 13 ابھی دل میں گونجتی آہٹیں مرے ساتھ ہیں
- 14 سوکھے ہونٹ، سلگتی آنکھیں، سرسوں جیسا رنگ
- 15 مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیں
- 16 کبھی یوں بھی تو ہو
- 17 یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہا
- 18 تو کیا اِک ہمارے لیے ہی محبّت نیا تجربہ ہے ؟؟
- 19 یہ دنیا کتنی پیاری ہے
- 20 وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں
- 21 اس نے میری راہ نہ دیکھی اور وہ رشتہ توڑ لیا
- 22 میں اس امید پہ ڈوبا کہ تو بچا لے گا
- 23 محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے
- 24 جو آستاں سے ترے لَو لگائے بیٹھے ہیں
- 25 میں اور مجھ کو اور کسی دلربا سے عشق ؟
- 26 یہ زمانہ یہ دور کچھ بھی نہیں
- 27 اکیلے سالگرہ مَیں نے کب منائی تھی!
- 28 مِری چمک دمک اب جوہری کو یاد نہیں
- 29 اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا
- 30 کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
- 31 جی مرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گا
- 32 تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویا
- 33 اُردو بولن والیے کُڑیے
- 34 کلرک کا نغمۂ محبت
- 35 مجھ کو تینوں یکساں ہیں
- 36 قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
- 37 جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں
- 38 باز آمد ۔۔۔ ایک منتاج
- 39 ڈاسنہ اسٹیشن کا مسافر
- 40 ان سے پہلی سی ملاقات نہیں ہوتی ہے
- 41 اٹھا کے بار حقارت ہنسی خوشی میں نے
- 42 زندگی دل کا سکوں چاہتی ہے
- 43 اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل
- 44 اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا
- 45 کچھ بچانے کے لیے عمر گنواتے ہوئے لوگ
- 46 زہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے
- 47 جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو
- 48 چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم
- 49 خُدا کرے نہ تمھیں میرے حال سے واقف
- 50 روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیں
- 51 دل خوں ہے دل کا حال رقم ہو تو کس طرح
- 52 کچھ عجب یہ بارگاہ عشق کا دستور ہے
- 53 مکاں چھوڑ کر لا مکاں دیکھتے ہیں
- 54 اجل نے لوٹ لیا آ کے کاروان حیات
- 55 کوئی پیکر ہے نہ خوشبو ہے نہ آواز ہے وہ
- 56 اک آس تو ہے کوئی سہارا نہیں تو کیا
- 57 گلی گلی یوں محبت کے خواب بیچوں گا
- 58 اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
- 59 مذکور تیری بزم میں کس کا نہیں آتا
- 60 اندیشے
- 61 تم اتنا جو مسکرا رہے ہو
- 62 کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا
- 63 تم سے نہ مل کے خوش ہیں وہ دعویٰ کدھر گیا
- 64 جب کلاس سے ٹیچر جاتے ہیں تو کتنی مسرت ہوتی ہے
- 65 اک سانپ مجھ کو چوم کے تریاق دے گیا
- 66 چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی
- 67 کون کہتا ہے کہ دریا میں روانی کم ہے
- 68 اپنا آپ تماشا کر کے دیکھوں گا
- 69 ملے تھے خوف سے، بچھڑے ہیں اعتماد کے ساتھ
- 70 تیرے خیال کے دیوار و در بناتے ہیں
- 71 کب تم بھٹکے کیوں تم بھٹکے کس کس کو سمجھاؤ گے
- 72 یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں
- 73 سخت مشکل میں کیا ہجر نے آسان مجھے
- 74 کیا ہے قصد تو سو بار سوچ ، حوصلہ کر
- 75 بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو
- 76 گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیا
- 77 اچھے عیسی ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے
- 78 کسی زہرہ شمائل کا تصور ہے مرے دل میں
- 79 میں کون ہوں
- 80 کبھی نظر توآ تسکین اضطراب تو دے
- 81 زندگی سے نباہ مشکل ہے
- 82 رنگ بدلا یار نے وہ پیار کی باتیں گئیں
- 83 اب سو جاؤ
- 84 یہ زرد موسم کے خشک پتے
- 85 برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا
- 86 نوجوان خاتون سے
- 87 حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئے
- 88 تم سے مل کے ایسا لگا، تم سے مل کے
- 89 ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
- 90 خود حجابوں سا خود جمال سا تھا
- 91 ہم اگر تیرے خدوخال بنانے لگ جائیں
- 92 انداز وہ ہی سمجھے مرے دل کی آہ کا
- 93 مجھ کو تجھ سے جو کچھ محبت ہے
- 94 میں نے کمرے میں جو تصویر لگائی ہوئی ہے
- 95 رات سنسان ہے
- 96 اداس شامیں، اجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنا
- 97 آگ ہو تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
- 98 وہ کہتی ہے، ستارے آنسوؤں میں کیوں چمکتے ہیں؟
- 99 کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہے
- 100 ہر گوشۂ نظر میں سمائے ہوئے ہو تم
- 101 تیرے اکتاتے ہوئے لمس سے محسوس ہوا
- 102 وہ بولی کیا ہوا گر آنکھ میں آنسو نہیں آئے
- 103 اُس کا انکار بھی حق میں تھا سراسر میرے
- 104 گم ہوتے گئے آپ ہی اِمکان ہمارے
- 105 دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
- 106 فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
- 107 جو ناصح مرے آگے بکنے لگا
- 108 مٹ جائے گناہوں کا تصور ہی جہاں سے اقبال
- 109 کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
- 110 دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
- 111 ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
- 112 پہنچ سے دُور چمکتا سراب یعنی تُو
- 113 بچھڑے تو قربتوں کی دعا بھی نہ کر سکے
- 114 ہم بھی شکستہ دل ہیں، پریشان تم بھی ہو
- 115 ترستی آنکھیں , اداس چہرہ , نحیف لہجہ , بغیر تیرے
- 116 خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
- 117 دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو
- 118 محبت کی ایک نظم
- 119 جوگی پیر فقیر تے سادھو اِک پاسے
- 120 اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
- 121 چارہ گر، اےدلِ بے تاب! کہاں آتے ہیں