search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
ثنا سوئٹ
مقرر / سپیکر
تعارف
انتخابِ کلام
مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیں
(13 فروری 2026)
کبھی یوں بھی تو ہو
(13 فروری 2026)
یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہا
(12 فروری 2026)
تو کیا اِک ہمارے لیے ہی محبّت نیا تجربہ ہے ؟؟
(12 فروری 2026)
یہ دنیا کتنی پیاری ہے
(11 فروری 2026)
وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں
(11 فروری 2026)
اس نے میری راہ نہ دیکھی اور وہ رشتہ توڑ لیا
(10 فروری 2026)
میں اس امید پہ ڈوبا کہ تو بچا لے گا
(10 فروری 2026)
محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے
(10 فروری 2026)
جو آستاں سے ترے لَو لگائے بیٹھے ہیں
(08 فروری 2026)
میں اور مجھ کو اور کسی دلربا سے عشق ؟
(08 فروری 2026)
یہ زمانہ یہ دور کچھ بھی نہیں
(08 فروری 2026)
اکیلے سالگرہ مَیں نے کب منائی تھی!
(05 فروری 2026)
مِری چمک دمک اب جوہری کو یاد نہیں
(05 فروری 2026)
اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا
(02 فروری 2026)
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
(02 فروری 2026)
جی مرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گا
(01 فروری 2026)
تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویا
(01 فروری 2026)
اُردو بولن والیے کُڑیے
(30 جنوری 2026)
کلرک کا نغمۂ محبت
(29 جنوری 2026)
مجھ کو تینوں یکساں ہیں
(29 جنوری 2026)
قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
(28 جنوری 2026)
جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں
(28 جنوری 2026)
باز آمد ۔۔۔ ایک منتاج
(27 جنوری 2026)
ڈاسنہ اسٹیشن کا مسافر
(27 جنوری 2026)
ان سے پہلی سی ملاقات نہیں ہوتی ہے
(26 جنوری 2026)
اٹھا کے بار حقارت ہنسی خوشی میں نے
(26 جنوری 2026)
زندگی دل کا سکوں چاہتی ہے
(25 جنوری 2026)
اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل
(25 جنوری 2026)
اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا
(25 جنوری 2026)
کچھ بچانے کے لیے عمر گنواتے ہوئے لوگ
(25 جنوری 2026)
زہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے
(23 جنوری 2026)
جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو
(23 جنوری 2026)
چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم
(22 جنوری 2026)
خُدا کرے نہ تمھیں میرے حال سے واقف
(22 جنوری 2026)
روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیں
(21 جنوری 2026)
دل خوں ہے دل کا حال رقم ہو تو کس طرح
(21 جنوری 2026)
کچھ عجب یہ بارگاہ عشق کا دستور ہے
(20 جنوری 2026)
مکاں چھوڑ کر لا مکاں دیکھتے ہیں
(20 جنوری 2026)
اجل نے لوٹ لیا آ کے کاروان حیات
(20 جنوری 2026)
کوئی پیکر ہے نہ خوشبو ہے نہ آواز ہے وہ
(18 جنوری 2026)
اک آس تو ہے کوئی سہارا نہیں تو کیا
(18 جنوری 2026)
گلی گلی یوں محبت کے خواب بیچوں گا
(18 جنوری 2026)
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
(15 جنوری 2026)
مذکور تیری بزم میں کس کا نہیں آتا
(15 جنوری 2026)
اندیشے
(14 جنوری 2026)
تم اتنا جو مسکرا رہے ہو
(14 جنوری 2026)
کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا
(13 جنوری 2026)
تم سے نہ مل کے خوش ہیں وہ دعویٰ کدھر گیا
(13 جنوری 2026)
جب کلاس سے ٹیچر جاتے ہیں تو کتنی مسرت ہوتی ہے
(12 جنوری 2026)
اک سانپ مجھ کو چوم کے تریاق دے گیا
(12 جنوری 2026)
چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی
(11 جنوری 2026)
کون کہتا ہے کہ دریا میں روانی کم ہے
(11 جنوری 2026)
اپنا آپ تماشا کر کے دیکھوں گا
(09 جنوری 2026)
ملے تھے خوف سے، بچھڑے ہیں اعتماد کے ساتھ
(09 جنوری 2026)
تیرے خیال کے دیوار و در بناتے ہیں
(08 جنوری 2026)
کب تم بھٹکے کیوں تم بھٹکے کس کس کو سمجھاؤ گے
(08 جنوری 2026)
یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں
(07 جنوری 2026)
سخت مشکل میں کیا ہجر نے آسان مجھے
(07 جنوری 2026)
کیا ہے قصد تو سو بار سوچ ، حوصلہ کر
(07 جنوری 2026)
بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو
(06 جنوری 2026)
گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیا
(06 جنوری 2026)
اچھے عیسی ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے
(05 جنوری 2026)
کسی زہرہ شمائل کا تصور ہے مرے دل میں
(05 جنوری 2026)
میں کون ہوں
(17 دسمبر 2025)
کبھی نظر توآ تسکین اضطراب تو دے
(17 دسمبر 2025)
زندگی سے نباہ مشکل ہے
(16 دسمبر 2025)
رنگ بدلا یار نے وہ پیار کی باتیں گئیں
(16 دسمبر 2025)
اب سو جاؤ
(15 دسمبر 2025)
یہ زرد موسم کے خشک پتے
(15 دسمبر 2025)
برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا
(15 دسمبر 2025)
نوجوان خاتون سے
(14 دسمبر 2025)
حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئے
(14 دسمبر 2025)
تم سے مل کے ایسا لگا، تم سے مل کے
(14 دسمبر 2025)
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
(12 دسمبر 2025)
خود حجابوں سا خود جمال سا تھا
(12 دسمبر 2025)
ہم اگر تیرے خدوخال بنانے لگ جائیں
(12 دسمبر 2025)
انداز وہ ہی سمجھے مرے دل کی آہ کا
(11 دسمبر 2025)
مجھ کو تجھ سے جو کچھ محبت ہے
(11 دسمبر 2025)
میں نے کمرے میں جو تصویر لگائی ہوئی ہے
(11 دسمبر 2025)
رات سنسان ہے
(10 دسمبر 2025)
اداس شامیں، اجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنا
(09 دسمبر 2025)
آگ ہو تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
(09 دسمبر 2025)
وہ کہتی ہے، ستارے آنسوؤں میں کیوں چمکتے ہیں؟
(09 دسمبر 2025)
کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہے
(08 دسمبر 2025)
ہر گوشۂ نظر میں سمائے ہوئے ہو تم
(08 دسمبر 2025)
تیرے اکتاتے ہوئے لمس سے محسوس ہوا
(06 دسمبر 2025)
وہ بولی کیا ہوا گر آنکھ میں آنسو نہیں آئے
(06 دسمبر 2025)
اُس کا انکار بھی حق میں تھا سراسر میرے
(05 دسمبر 2025)
گم ہوتے گئے آپ ہی اِمکان ہمارے
(05 دسمبر 2025)
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
(04 دسمبر 2025)
فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
(04 دسمبر 2025)
جو ناصح مرے آگے بکنے لگا
(04 دسمبر 2025)
مٹ جائے گناہوں کا تصور ہی جہاں سے اقبال
(03 دسمبر 2025)
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
(03 دسمبر 2025)
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
(02 دسمبر 2025)
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
(02 دسمبر 2025)
پہنچ سے دُور چمکتا سراب یعنی تُو
(02 دسمبر 2025)
بچھڑے تو قربتوں کی دعا بھی نہ کر سکے
(01 دسمبر 2025)
ہم بھی شکستہ دل ہیں، پریشان تم بھی ہو
(01 دسمبر 2025)
ترستی آنکھیں , اداس چہرہ , نحیف لہجہ , بغیر تیرے
(01 دسمبر 2025)
خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
(30 نومبر 2025)
دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو
(30 نومبر 2025)
محبت کی ایک نظم
(30 نومبر 2025)
جوگی پیر فقیر تے سادھو اِک پاسے
(29 نومبر 2025)
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
(28 نومبر 2025)
چارہ گر، اےدلِ بے تاب! کہاں آتے ہیں
(28 نومبر 2025)