ثنا سوئٹ

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

یہ زمانہ یہ دور کچھ بھی نہیں

یہ زمانہ یہ دور کچھ بھی نہیں
اک تماشہ ہے اور کچھ بھی نہیں​
اک تری آرزو سے ہے آباد
ورنہ اس دل میں اور کچھ بھی نہیں​
عشق رسم و رواج کیا جانے
یہ طریقے یہ طور کچھ بھی نہیں​
وہ ہمارے ہم ان کے ہو جائیں
بات اتنی ہے اور کچھ بھی نہیں​
جلنے والوں کو صرف جلنا ہے
ان کی قسمت میں اور کچھ بھی نہیں​
اے نصیر انتظار کا عالم
اک قیامت ہے اور کچھ بھی نہیں​

پیر نصیرالدین