سوہا سلطان

سوہا سلطان

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے

تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے جو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہ تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے قتیلؔ اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے

شاعر: قتیل شفائی — پیشکش: سوہا سلطان

‹ کلام کی فہرست پر واپس