مرزا جواد

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

تم سے پوچھا نہ گیا ھم سے بتایا نہ گیا

تم سے پوچھا نہ گیا ھم سے بتایا نہ گیا
پھر بھی جو دل میں چھپا تھا وہ چھپایا نہ گیا
عشق کی گلیوں میں اک عمر گزاری لیکن
اب یہ لگتا ھے میں اس شہر میں آیا نہ گیا
ورنہ کس کس نے نہیں چاہا ھمارا ھونا
دل ترے بعد کسی سے بھی لگایا نہ گیا
اس نے اک بار نکالا تھا مجھے محفل سے
پھر مرے پاؤں بھی پکڑے میں دوبارہ نہ گیا
عمر بھر ساتھ رھے پھول کی خوشبو جیسے
لفظ تو بھول گئے روح سے لہجہ نہ گیا
میں نے اک بار کبھی پانی پلایا تھا اسے
چھت کبھی چھوڑ کے پھر میری پرندہ نہ گیا
جسکو دیوانہ کہا جسکا اڑاتے تھے مذاق
ھوش والوں کو مبارک ھو وہ دیوانہ--- گیا
خامیاں اس نے بھی مجنوں میں نکالی ہیں وصی
جس تلک عشق تو کیا عشق کا سایہ نہ گیا

وصی شاہ