عروج فیاض

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

اب کے سال پُونم میں

اب کے سال پُونم میں، جب تو آئے گی ملنے
ہم نے سوچ رکھا ہـے، رات یوں گزاریں گے
دھڑکنیں بچھادیں گے، شوخ تیرے قدموں پہ
ہم نگاہوں سے تیری، آرتی اُتاریں گے
تُو کہ آج قاتل ہـے، پھر بھی راحتِ دل ہـے
زہر کی ندی ہـے تُو، پھر بھی قیمتی ہـے تُو
پست حوصلے والے، تیرا ساتھ کیا دیں گے
زندگی ادھر آ جا، ہم تجھے گزاریں گے
آہنی کلیجے کو زخم کی ضرورت ہـے
انگلیوں سے جو ٹپکے، اُس لہو کی حاجت ہـے
آپ زلفِ جاناں کے، خم سنوارئیـے صاحب
زندگی کی زلفوں کو، آپ کیا سنواریں گے
ہم تو وقت ہیں، پل ہیں، تیز گام گھڑیاں ہیں
بـے قرار لمحے ہیں، بـے تھکان صدیاں ہیں
کوئی ساتھ میں اپنے آئے یا نہ آئے
جو ملے گا رستے میں، ہم اُسے پکاریں گے

ظفرگورکھپوری